Sunday, 04 November, 2007, 12:02 GMT 17:02 PST
صلاح الدین
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
ہندوستان میں پچھلے بیس گھنٹوں سے بھارتی ٹی وی چینلز پر پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ اور اس کے بعد کے حالات پر مستقل خبریں اور تجزیے و تبصرے نشر ہو رہے ہیں۔ تمام اخبارت کی شہ سرخیوں میں بھی یہی خبر نمایاں ہے۔
ہندوستانی حکومت کی طرح اخبارت نے بھی جنرل پرویز مشرف کے اس قدم پر محتاط رویہ اپنایا ہے لیکن بیشتر اخبارت کا لہجہ جنرل مشرف پر نکتہ چینی والا ہے۔
انڈین ایکسپریس کی سرخی ہے ’ایمرجنسی پاکستان، مشرف نے آئین کو معطل کر دیا‘۔ اخبار نے اس پر ایک خصوصی مضمون شائع کیا ہے جس کی ہیڈ لائن ہے ’انجیر کی پتے پھر جھڑ گئے، ایک بار پھر پاکستان اپنی ہی فوج سے مفتوح ہو گیا اور لوگ دیکھتے رہے‘۔ اخبار لکھتا ہے کہ اس کے نتائج کیا ہوں گے یہ تو وقت بتائے گا لیکن فی الوقت یہی لگتا ہے کہ یہ عدلیہ کے خلاف ایک بغاوت ہے۔
اخبار دی ہندو نے مشین گنوں سے لیس فوجیوں سے بھری ایک گاڑی کی تصویر شائع کی ہے اور ہیڈ لائن ہے ’مشرف نے ایمرجنسی ٹھونکی اور نیا عبوری آئین نافذ کیا‘۔ایشین ایج کی سرخی ہے ’پاکستان مشرف قانون کے ماتحت‘۔ اخبار نے ہندوستان کے رد عمل اور بے نظیر کی کراچی واپسی کا ذکر کرتے ہوئے نواز شریف کے اس مطالبے کو بھی جلی حرفوں میں جگہ دی ہے کہ ’انڈ یا کو مشرف کے اس قدم کی سخت مذمت کرنی چاہیے‘۔
![]() اور لوگ دیکھتے رہے |
ہندی اخبار نو بھارت ٹائمز کی سرخی ہے ’جنرل نے چلایا ایمرجنسی کا ہنٹر‘ اخبار لکھتا ہے کہ بھارت میں سیاسی حلقے یہ مانتے ہیں کہ جنرل مشرف نے اپنی کرسی بچانے کے لیے یہ قدم اٹھایا ہے اور پاکستانی سماج میں اس سے عدم استحکام پھیلے گا جس کی آنچ بھارت کے سرحدی علاقوں میں بھی آسکتی ہے۔
روز نامہ راشٹریہ سہارا کی ہیڈ لائن ہے ’مشرف نے چلایا چابک‘۔ اخبار نے اس خبر کے حوالے سے وزیراعظم منموہن سنگھ کی کابینہ کے رفقاء سے ملاقات اور بھارت پاکستان کے درمیان کرکٹ سیریزجاری رہنے جیسے مختلف پہلوں کو صفحہ اول پر جگہ دی ہے۔
اخبار امر اجالا نے بھی اسے جنرل پرویز مشرف کا آخری داؤ بتایا ہے اور پاکستان میں اب تک کب اور کس کس شخص نے ایمرجنسی یا مارمارشل لاء کا نفاذ کیا اس کی پوری تفصیل اپنے پہلے ہی صفہ پر شائع کی ہے۔
بھارت میں تمام ٹیلی ویژن چینلز کی اب بھی بڑی خبر پاکستان میں ایمرجنسی کا نفاذ اور اس کے بعد کی صورت حال ہے۔ پاکستان میں ممکن ہے ’آج‘ یا ’جیو ٹی وی‘ دیکھنے کو نہ ملیں لیکن سیٹ لائٹ کے ذریعے بھارت میں یہ چینل دستیاب ہیں اور کئی بھارتی چینل انہیں کی فوٹیج نشر کر رہے ہیں اور وقفے وقفے سے تازہ صورت حال پاکستانی صحافی بتاتے رہتے ہیں۔