Sunday, 28 October, 2007, 11:01 GMT 16:01 PST
ایم ایس احمد
پٹنہ
جمعہ کی رات نکسلی تشدد میں اٹھارہ افراد کی ہلاکت کے خلاف جھارکھنڈ میں اتوار کو ہڑتال کی گئی ہے۔
جمعہ کے نکسلی تشدد میں سابق وزیر اعلٰی بابو لال مرانڈی کے بیٹے انوپ مرانڈی اور دیگر سترہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔مسٹر مرانڈی بوکارو حلقے سے پارلیمان کے آزاد ممبر ہیں اور جھارکھنڈ وکاس مورچہ یا جے وی ایم نامی ایک تنظیم کے سربراہ ہیں۔
جے وی ایم کی جانب سے کیے جانے والے اس بند کا ریاست کے مختلف علاقوں میں خاصا اثر بتایا جا رہا ہے۔ اس بند کی وجہ سے راجدھانی اکسپریس جیسی اہم ٹرینوں کی آمد و رفت متاثر ہوئی ہے۔
ایسٹ سنٹرل ریلوے زون کے رابطہ عامہ کے چیف افسر اے کے چندرا نے بتایا کہ دھنباد ڈوژن میں ٹرینوں کی آمد و رفت متاثرہ ہوئی ہے اور اسکی تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں۔ مسٹر چندرا کا کہنا تھا کہ بند اور ہڑتال میں عام طور پر ٹرینیں روکی جاتی ہیں۔
مختلف ذرائع سے حاصل اطلاعات کے مطابق ریاست کے گریڈیہ، جمشید پور، دھنباد، کوڈرمہ اور بوکارو میں اس ہڑتال کے دوران دوکانیں بند کرائی گئی ہیں۔ٹرینوں کے علاوہ سڑکو پر بھی گاڑیوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے۔
جمعہ کو نکسلی تشدد کا یہ واقعہ یوں تو جھارکھنڈ کے ضلع گریڈیہ کے چلکھاری گاؤں میں پیش آیا تھا لیکن اس میں بہار کے جموئی ضلع کے چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔
دونوں اضلاع ایک دوسرے سے متصل ہیں۔اس لیے دونوں ریاستوں کی پولیس نکسلیوں کے خلاف مشترکہ کارروائی کر رہی ہیں۔
دونوں ریاستوں میں اس نکسلی تشدد میں ہلاک شدگان کے اہل خانہ کو ایک ایک لاکھ روپے بطور معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔
بہار اور جھارکھنڈ ماؤنواز نکسلی تشدد سے بری طرح متاثر رہے ہیں۔اس سے قبل متعدد بار اجتماعی قتل کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔اس سال مارچ میں جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے جمشید پور سے رکن پارلیمان سنیل مہتو بھی نکسلی تشدد میں ہلاک ہو گئے تھے۔