Saturday, 27 October, 2007, 01:02 GMT 06:02 PST
بھارت کی ریاست جھارکھنڈ کے گریڈی ضلع میں ماؤ نواز باغیوں کے ایک حملے میں سابق وزیر اعلیٰ بابو لال مرانڈی کے بیٹے سمیت سترہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
گریڈی کے ایس پی ارن کمار سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ حملہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر سے اسی کلو میٹر دور چلکادی میں ہفتے کو علی الصبح ہوا۔ بھارتی خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق پچیس کے قریب باغیوں نے چلکادی میں جاری ثقافتی میلے پر حملہ کیا۔
اطلاعات کے مطابق اس حملے میں ہلاک ہونے والوں میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔پولیس ذرائع کے مطابق اس حملے میں بابو لال مرانڈی کے بھائی بال بال بچ گئے ہیں۔بابو لال مرانڈی اور ان کا پورا خاندان ماؤ نواز باغیوں کی ’ہٹ لسٹ‘ پر ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایس پی ارن کمار سنگھ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ثقافتی میلے کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار میلے سے قبل ہونے والے فٹبال میچ کے بعد چلےگئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ’انہوں نے غلطی کی اور انہیں ٹھہرنا چاہیے تھا‘۔
ارن کمار کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد جھارکھنڈ ارو بہار کی سرحد بند کر دی گئی ہے تاکہ باغیوں کو فرار ہونے سے روکا جا سکے۔
ماؤ نواز باغی جھارکھنڈ، بہار، آندھرا پردیش، چھتیس گڑھ،مدھیہ پردیش، مغربی بنگال اور مہاراشٹر کے ایک سو بیاسی اضلاع میں سرگرمِ عمل ہیں اور باغیوں کی کارروائیوں اور سکیورٹی فورسز سے باغیوں کی جھڑپوں میں اب تک چھ ہزار سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔