http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 26 October, 2007, 00:59 GMT 05:59 PST

گجرات فسادات پر تحقیقاتی رپورٹ

بھارت کی ریاست گجرات میں سن دو ہزار دو کے فسادات کے بارے میں ایک ویب سائٹ نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں ان فسادات میں مبینہ طور پر ملوث افراد کے بیانات ریکارڈ کیئے ہیں جن میں انہیں اعتراف جرم کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

اپنی تحقیقاتی رپورٹس کی وجہ سے مشہور اس ویب سائٹ تہلکہ کے نمائندوں نے پانچ ماہ تک خفیہ کیمروں کی مدد سے گجرات کے فسادات کے بارے میں بنائی گئی رپورٹ میں سرکردہ ملزمان کو یہ بھی کہتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ ان فسادات کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی تھی۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد بھارت کے کئی بڑے بڑے نشریاتی ادارے اور ٹی وی چینل گجرات کے فسادات کے بارے میں خبریں نشر کر رہے ہیں۔

شکیل اختر کے مطابق تہلکہ کا ایک نمائندے اس تحقیقاتی رپورٹ کی خفیہ طور پر تیاری کے سلسلے میں پانچ ماہ تک وشوا ہندو پریشد تنظیم کے کارکن کی حیثیت سے گجرات میں جا کر مقیم رہے اور خفیہ کمیروں کی مدد سے مختلف ہندو تنظیموں کے کارکنوں کے انٹرویو ریکارڈ کیئے۔

انہوں نے بتایا کہ تہلکہ کے دو نمائندے اس سلسلے میں صرف گودرا ہی نہیں بلکہ مختلف دیہاتوں میں بھی گئے جہاں مسلمانوں کا قتل عام ہوا تھا اور ان کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔

گجرات میں ہونے والے ان فسادات میں ایک اندازے کے مطابق دو ہزار کے قریب مسلمانوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ ان فسادات میں مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد بے گھر بھی ہو گئی تھی اور ان میں سے بہت سے آج تک اپنے گھروں میں آباد نہیں ہو سکے اور مہاجرین کی زندگیاں بسر کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ بھارت کی اعلی عدلیہ اس نئی رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد اپنے صوابدیدی اختیار استعمال کرتے ہوئے اس کا از خود نوٹس لیے لے۔

نریندر مودی اور بھارتیہ جنتہ پارٹی کی قیادت نے اس رپورٹ کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے سیاسی مخالفین جن میں ان کی اپنی جماعت کے باغی ارکان بھی شامل اس معاملے کو ہوا دے رہے ہیں۔

بی جے پی کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ الزامات اگلے ماہ گجرات میں ہونے والے انتخابات کے حوالے سے کانگریس پارٹی کی بی جے پی کے خلاف سازش کا حصہ ہیں۔

واضح رہے کہ تقسیم ہند کے بعد ہندوستان میں ہونے والے سب سے بڑے فسادات میں گجرات میں ایک ہزار سے زائد لوگ مارے گئے تھے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔