Wednesday, 24 October, 2007, 12:58 GMT 17:58 PST
تمل ناڈ و کے شہر کوئمبٹور کی ایک ذیلی عدالت نے انیس سو اٹھانوے کے سلسلہ وار بم دھماکوں کے مقدمے میں ’الامہ‘ تنظیم کے بانی سید احمد باشا اور سیکریٹری محد انصاری سیمت دس ملزمان کو عمر قید کی سزائیں سنائی ہیں۔
چنئی کے ایک مقامی صحافی مینک کمار شکلا نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ بدھ کو عدالت نے بم دھماکے کے ستر اہم ملزمان میں سے پہلے دس کو عمر قید کی سزائیں سنائیں۔
خصوصی عدالت کے جج اتھی راپتھی نے اس سال اگست میں اس مقدمے ایک سو چھیاسٹھ ملزمان میں سے آٹھ کو بری کردیا تھا جب کہ ستر ملزمان کو دھماکے کا اہم مجرم قرار دیا تھا۔
عدالت نے سید محمد پاشا کو عمر قید کے علاوہ تین سال قید با مشقت کی سزا بھی سنائی ہے جب کہ احمد انصاری کو دو بار عمر قید کی سزا کے علاوہ پچھتر سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ اس طرح مختلف مجرموں کو ان کے خلاف الزامات کے مطابق تقریباً سترہ سے ایک سو پچیس سال تک قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں لیکن سبھی سزائیں ساتھ ساتھ چلیں گی۔ تمام مجرم گزشتہ دس برس سے جیل میں ہيں۔
پولیس کا کہنا تھا کہ ممنوعہ تنظیم ’الامہ‘ سے تعلق رکھنے والے کئی خودکش حملہ آور اڈوانی کو ہلاک کرنے کے مشن پر تھے۔ ان دھماکوں کے سلسلے میں تمل ناڈو کی پولیس نے کرناٹک، آندھرپردیش اور مغربی بنگال سے ایک سو اڑسٹھ مسلمانوں کوگرفتار کیا تھا۔
اگست میں عدالت نے اس معاملے کے اہم ملزم پیپلز ڈیمو کریکٹ پارٹی کے عبدالناصر مدنی کو تمام الزم سے بری کردیا تھا۔