Tuesday, 23 October, 2007, 12:11 GMT 17:11 PST
رام دت ترپاٹھی
لکھنؤ
ہندوستان کی ریاست اتر پردیش کے شہر کانپور کی ایک عدالت نے 1992 میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے ایک مقدمے میں پندرہ ملزموں کو قصوروار قرار دیا ہے۔
ان لوگوں پر گیارہ لوگوں کو ہلاک کرنے کا الزام تھا۔
1992 میں ریاست کے شہر ایودھیا میں واقع متنازعہ بابری مسجد کے انہدام کے بعد ملک کے بیشتر علاقوں میں فرقہ وارانہ فسادات کی لہر دوڑ گئی تھی جس میں کانپور شہر بھی شامل تھا۔ ان فسادات میں تقریباً دو ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں بیشتر مسلمان تھے۔
کانپور کے اس مقدمے میں 10 دسمبر 1992 کو شہر کے گوندپور علاقے میں ہندوؤں کے ایک پر تشدد ہجوم نے گیارہ مسلمانوں کو جلا دیا تھا جن میں دو عورتیں اور ایک بچہ بھی شامل تھا۔
مقدمے میں چوبیس گواہ تھے جن میں دس عام شہری تھے۔ حالانکہ سبھی عام شہری بعد میں منحرف ہوگئے تھے۔ تاہم پولیس کے اہلکاروں نے فسادات ، قتل اور آتش زنی سے متعلق گواہی دی۔
کل پچیس ملزمان پر مقدمہ چلایا گیا تھا جن ميں سے ایک ملزم کی پندرہ برسوں کی عدالتی کارروائی میں موت ہو گئی۔
پیر کو عدالت نے پندرہ ملزمان کو قصور وار ٹھہراتے ہوئے نو کو بری کر دیا۔ مجرموں کی سزاؤں کا اعلان چوبیس اکتوبر کو کیا جائے گا۔
اس درمیان وکیلِ صفائی یوگیش بھسین نے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کرنے کی بات کہی ہے۔
مسٹر بھسین کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف باضابطہ طور پر کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دو برس قبل ان فسادات سے متعلق ایک دیگر مقدمے میں تمام ملزمان کو بری کر دیا گيا تھا۔