Monday, 22 October, 2007, 15:00 GMT 20:00 PST
ہند امریکہ جوہری معاہدے پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے حکمراں اتحاد یونائٹیڈ پرگرویسو ایلائنس اور بائیں بازو کے محاذ کے رہنماؤں کے درمیان بات چیت کا اگلا دور نومبر میں ہوگا۔
اس بات کا فیصلہ پیر کو حکمراں اتحاد اور محاذ کے درمیان دلی میں ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے کی۔
اجلاس کے بعد مسٹر مکھرجی نے صحافیوں کے سامنے ایک بیان پڑھتے ہوئے کہا کہ یو پی اے اور بائيں بازو کے درمیان اگلا اجلاس سولہ نومبر کو ہوگا۔ ’آج کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہند امریکہ جوہری معاہدے پر عمل درآمد تب تک نہیں کیا جایا گا۔‘
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اجلاس میں ہند امریکہ جوہری معاہدے سے متعلق ہائڈ ایکٹ میں موجود مختلف پہلؤوں پر بھی بات چیت کی گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بیان سے ایسا لگتا ہے کہ بائيں بازو کی جماعتوں کے اس مطالبے کو تسلیم کر لیا گیا ہے کہ فی الوقت اس معاہدے پر عملدرآمد نہ کیا جائے۔
منموہن کو افسوس |
گزشتہ پیر کو وزیر اعظم منموہن سنگھ نے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں امریکہ اور ہندوستان کے درمیان جوہری معاہدے کے نفاذ میں مشکلات کا سامنا ہے۔
تاہم وزیر اعظم نے یہ بھی کہا تھا کہ جوہری معاہدہ ابھی ناکام نہیں ہوا ہے اور اس مسئلے پر وہ اپنی اتحادی جماعتو ں کے ساتھ اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ہند امریکہ جوہری معاہدے کے مسئلے پر حکمراں اتحاد میں شدید اختلافات ہیں۔ یو پی اے میں شامل بائیں بازو کے محاذ کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے پر عملدرآمد ہوا تو وہ حکومت سے علحیدگی اختیار کر لے گا۔
پیر کو ہونے والے اجلاس سے قبل کمیونسٹ پارٹی آف انڈيا کے رہنما اے وی وردھن کا کہنا تھا ’میرے خیال میں معاہدے کے متعلق تنازعہ اس وقت ختم ہوگا جب یہ واضح کر دیا جائے کہ حکومت اس معاہدے کومعطل کر رہی یا سرِ دست سرد خانے میں رکھ رہی ہے۔‘
![]() | |
| ہندوستان کو امریکہ کی جوہری ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہو جائے گی |
محاذ سے اختلاف دور کرنے کے لیے گزشتہ مہینے وزیرخارجہ پرنب مکھرجی کی زير قیادت پندرہ رکنی کمیٹی بنائی گئی تھی۔ اس سے قبل کمیٹی کے کئی اجلاس ہو چکے ہیں جو نتیجہ خیز نہیں رہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ معاہدے پر عملدرآمد میں تعطل آنے سے بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی ساکھ کو دھچکا لگے گا۔
خیال رہے کہ اگر ہندوستان اور امریکہ کے درمیان جوہری شعبے میں یہ تاریخی معاہدہ پائے تکمیل تک پہنچتا ہے تو اس نتیجہ میں ہندوستان کو امریکہ کی جوہری ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہو جائے گی۔