http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 21 October, 2007, 21:47 GMT 02:47 PST

تنویر اے صدیقی
احمد آباد

گجرات انتخابات اور مسلمانوں کی الجھن

ہندوستان کی مغربی ریاست گجرات میں جب سے اسبملی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان ہوا ہے ملک کی مختلف سیاسی و غیر سیاسی گروہ ریاست میں مسلمان رائے دہندگان سے رابطے شروع کر چکے ہیں اور اس کی وجہ عام مسلمانوں میں کانگریس سے پائی جانے والی ناراضگی ہے۔

سنہ 2002 کے فسادات کے بعد، جن میں ایک ہزار سے زائد افراد مارے گئے تھے اور جن میں سے بیشتر مسلمان تھے، مسلمانوں کے دلوں میں یہ احساس گھر کرگیا ہے کہ ان کے ساتھ کانگریس کا رویہ معاندانہ نہيں تو کچھ دوستانہ بھی نہيں رہا ہے۔

اسی صورت حال سے فائدہ اٹھانے کی غرض سے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے سربراہ شرد پوار، بہوجن سماج پارٹی کی صدر مایاوتی اور لوک جن شکتی پارٹی کے سربراہ رام ولاس پاسوان مسلمانوں سے جذباتی طور پر قریب ہونے کی کوشش میں مصروف ہيں۔

اسی دوران’جن سنگھرش منچ‘ نامی تنظیم نے مکّل سنہا کی قیادت میں ان انتخابات میں اپنی قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ تنظیم پچھلے پانچ برسوں میں مسلمانوں میں اور خاص کر فساد زدگان میں مقبول رہی ہے۔

جن سنگھرش کے سربراہ مکل سنہا ایک سرکردہ وکیل ہيں اور انہوں نے’نیو سوشلسٹ موومنٹ‘ کے نام سے ایک سیاسی جماعت قائم کی ہے جو بشمول سنہا انیس امیدوار کھڑے کرے گی۔

لیکن اس سے عام مسلمانوں میں ایک الجھن پیدا ہوتی نظر آرہی ہے۔ ایک طرف مکل سنہا جیسے لوگ ہيں جنہوں نے مصبیت کے وقتوں میں ان کا ساتھ دیا ہے تو دوسری جانب ہندوؤں میں کانگریس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ہے جسے ریاست کی حمکراں جماعت بی جے پی کے ناراض دھڑوں سے تقویت حاصل ہو رہی ہے۔

لوگوں کا خیال ہے کہ غیر کانگریسی امیدوار اقلیتی فرقہ کے ووٹوں کو تقسیم کرکے مسلمانوں کی رہی سہی سیاسی طاقت کو غیر موثر کرسکتے ہیں۔حالانکہ حال میں قائم شدہ سنی عوام فورم کے سربراہ عثمان قریش کا خیال ہے کہ مکل سنہا کی پارٹی کے امیدوار آسانی سے جیت جائیں گے۔

بقول عثمان قریش اس کی وجہ مسلمانوں میں سنہا کے تیئں پایا جانے والا احساس تشکر ہے۔ اس حوالے سے مکل مسٹر سنہا کا کہنا ہے کہ انتخابات میں حصہ لینا ان کا بنیادی مقصد نہیں ہے بلکہ اس کے ذریعہ وہ انصاف دلانے کی خاطر اپنی جدوجہد کو مزيد شدومد سے جاری رکھنے کے خواہش مند ہيں۔

وہ کہتے ہيں کہ انتخابات میں حصہ لینا ایک ضمنی چیز ہے اور ہار یا جیت سے قطع نظر ظلم اور ناانصافی کے خلاف وہ لڑتے رہیں گے اور اس پر انتخابات کے نتائج کسی بھی صورت سے اثر انداز نہيں ہوں گے۔

ایک ٹیلی فون بوتھ کے مالک عقیل احمد انصاری کہتے ہيں کہ غیرکانگریسی امیدوار کو ووٹ دینا بالواسطہ طور پر بی جے پی کے ہاتھ مضبوط کر نے کے مترادف ہوگا کیونکہ وہ فتح کے لیے درکار ووٹ حاصل نہيں کر سکتے۔

سابق ہائی سکول پرنسپل ابہام رشید کا کہنا ہے کہ مقابلہ اگر صرف دو سیاسی جماعتوں تک ہی محدود ہو تو اسمبلی انتخابات میں زعفرانی جماعت کے ممبران کی تعداد کو کم کیا جا سکے گا۔ درس و تدریس سے وابستہ غلام محمد کا کہنا ہے کہ گانگریس کی اب اتنی ضرورت نہیں رہی اور اگر لوگ ایک بہتر امیدوار چن سکتے ہیں تو یہ جمہوریت کے حق میں اچھا ہی ہوگا۔