ریاض مسرور
بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر
ہندوستانی زیرانتظام کشمیر کے کپواڑہ ضلع میں ایک سرکاری اُستاد کی فوجی حراست میں مبینہ ہلاکت کےخلاف چوبیس گھنٹوں تک جاری رہنے والے پرتشدد مظاہروں میں کئی پولیس جوانوں سمیت چالیس سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
مظاہروں میں فوج اور ضلع انتظامیہ کی دو گاڑیوں کو مظاہرین نے نذرآتش کر دیا گیا۔
مشتعل مظاہرین کے مطالبے پر ضلع پولیس نے مقامی فوجی یونٹ کے خلاف قتل کا معاملہ درج کیا ہے اور ایک فوجی جوان کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے گرفتار کرلیا ہے۔
اس سلسلے میں فوجی ترجمان کرنل منجیندر سنگھ کا کہنا ہے کہ مقتول نے بحث و تکرار کے دوران فوجی جوان سے اس کی رائفل چھیننے کی کوشش کی اور جوان نے ذاتی بچاؤ میں گولی چلائی جسکی وجہ سے رشید نامی شخص ہلاک ہوگیا۔ تاہم ترجمان کا کہنا ہے کہ فوج نے بھی علیٰحدہ طور پر تحقیقات شروع کردی ہے۔
ابھی تک ضلع میں کشیدگی پائی جاتی ہے اور پولیس و نیم فوجی عملہ کو چوکس کردیا گیا ہے۔
ضلع کے ڈپٹی کمشنر اسفندیار خان نے بی بی سی کو بتایا کہ کپواڑہ کے راوتھ پورہ گاؤں کے رہنے والے عبدالرشید کی ہلاکت کے بعد مقامی لوگوں نے ان کی لاش تب تک دفنانے سے انکار کیا جب تک قصورواروں کو سزا نہ دی جائے۔ لوگوں نے لاش کو جلوس کی صورت میں تحصیل آفس پہنچایا جہاں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس اور مظاہرین کے تصادم میں جمعہ کی شام سے سنیچر کی دوپہر تک کئی پولیس اہلکاروں سمیت چالیس افراد زخمی ہوگئے تھے۔
خمیازہ |
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران مقامی فوجی یونٹ کے بعض اہلکاروں نے کئی بار استانیوں پر فقرے کسے جس پر رشید نے اعتراض کیا۔ رشید کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ اب تک دو مرتبہ رشید کی فوجی اہلکاروں کے ساتھ تکرار ہوچکی ہے۔ شکیل کے مطابق جمعرات کو فوجی اہلکاروں نے رشید کا شناختی کارڑ ضبط کرلیا تھا اور انہیں وارننگ دی تھی کہ ’آئندہ استانیوں کے ساتھ نظر آئے تو سبق سکھایا جائے گا۔‘
![]() | |
| پولیس نے اس موقعہ پر اشک آور گیس کے گولے داغے اور لاٹھی چارج کیا (فائل فوٹو) |
یہ خبر آناً فاناً ضلع بھر میں پھیل گئی اور راوتھ پورہ و دیگر ملحقہ دیہاتوں سے لوگوں کی بڑی تعداد مارسری گاؤں میں پہنچ گئی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مشتعل مظاہرین نے فوج کی اُس جپسی گاڑی کو گھیرے میں لےلیا جس میں فوجی اہلکار رشید کا تعاقب کرتے ہوئے ان کے سکول تک آگئے تھے۔ مقامی لوگوں کے مطابق فوجی اہلکار وہاں سے فرار ہوگئے لیکن مظاہرین نے گاڑی کو نذرآتش کردیا۔ اس کے بعد مقامی تحصیلدار کی گاڑی میں ضلع انتظامیہ کے افسران موقعہ پر پہنچے تو ان پر بھی پتھراؤ کیا گیا جسکے نتیجہ میں ایک سرکاری گاڑی تباہ ہوگئی۔
مذمت |
کپواڑہ کے معروف سماجی کارکن جاوید احمد میر نے بی بی سی کوبتایا کہ چوکی بل اور راوتھ پورہ علاقے میں عام لوگوں اور فوج کے درمیان مختلف سطحوں پر تصادم ہے۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے مسٹر میر کہتے ہیں کہ چوکی بل سے مارسری جنگلات تک جنگی سازوسامان ڈھونے کے لئے فوجی مقامی نوجوانوں اور سکول کے بچوں کو بیگار پر لے جاتے ہیں، جس پر اساتذہ اکثر اعتراض کرتے ہیں۔ رشید کے قتل سے متعلق ان کا کہنا ہے کہ ’جس سکول میں وہ تعینا ت تھا وہ عام بستی سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور روزانہ اساتذہ اور استانیوں کو یہ فاصلہ پیدل طےکرنا پڑتا ہے۔ راستے میں کئی مقامات پر فوجی اہلکاروں کے ساتھ ان کا سابقہ پڑتا ہے۔ اس صورتحال سے متعلق حکومت ہی کچھ کرسکتی ہے۔‘
جمعہ کے روز راوتھ پورہ اور ملحقہ دیہات میں کاروباری اور تعلیمی سرگرمیاں معطل رہیں تاہم سنیچر کو پورے ضلع میں عام زندگی ٹھپ ہوگئی کیونکہ مقامی وکلا نے ضلع میں احتجاجی ہڑتال کا اعلان کردیا۔ ہندنواز اور ہند مخالف دونوں سیاسی گروپوں نے واقعہ کی مذمت کی ہے۔