http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 18 October, 2007, 09:08 GMT 14:08 PST

جوہری معاہدے پر مذاکرات جاری

ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ کا کہنا ہے کہ جوہری معاہدے پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے بائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔

جمعرات کو افریقہ کے دورے کے دوران صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے منموہن سنگھ نے کہا کہ ’معاہدے پر اتفاق رائے حاصل کرنے کا عمل جاری ہے۔‘

منموہن سنگھ نے حال ہی امریکہ کے صدر جارج بش سے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں امریکہ اور انڈیا کے درمیان جوہری معاہدے کے انعقاد میں مشکلات کا سامنا ہے۔اس بات چیت سے پہلی بار یہ ظاہر ہوا ہے کہ ہندوستان جوہری معاہدے کو مسترد کرسکتا ہے۔

ہندوستان کی حکمراں کانگریس پارٹی کو اپنے اتحادی بائیں محاذ سے معاہدے پر شدید مخالفت کا سامنا ہے۔ بائیں محاذ کا کہنا ہے کہ حکومت معاہدہ نہ کرے کیونکہ معاہدے میں بعض ایسی شرائط ہیں جن سے ہندوستانی خارجہ پالیسی میں امریکہ کی دخل اندازی صاف نظر آتی ہے۔ بائیں بازو کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدہ کرتی ہے تو وہ حکومت سے حمایت واپس لے سکتے ہیں۔

مبصرین کے مطابق حکومت بائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ معاہدے سے متعلق سارے اختلافات دور کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور وہ وسط مدتی انتخابات نہیں چاہتی۔

حکومت بائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ گزشتہ کئی ہفتوں سے معاہدے پر اتفاق رائے قائم کرنے کی کوشش میں ہے لیکن پیر کے روز منموہن سنگھ اور جارج بش کی بات چیت کے بعد یہ کہا جانے لگا ہے کہ اگر حکومت بائیں بازو کی جماعتوں کو منانے میں کامیاب نہیں ہوسکی تو وہ معاہدہ مسترد کرسکتی ہے۔

کانگریس کے ترجمان شکیل احمد نے دلی میں صحافیوں کو بتایا کہ جوہری معاہدہ ختم نہیں ہوا ہے اور اس پر بات چیت جاری ہے۔ کانگریس پارٹی اور اسکی اتحادی جماعتیں معاہدے سے متعلق بات چیت کے لیے ایک بار پھر پیر کو میٹنگ کرنے والے ہیں۔

مسٹر منموہن سنگھ نے گزشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’جوہری معاہدہ ایک قابل فکر معاہدہ ہے اور یہ نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا کے مفاد میں ہے۔‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہند امریکہ جوہری معاہدہ نہ ہو سکا تو انہیں افسوس ہوگا تاہم وہ اس کڑوی سچائی کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے بھی تیار ہیں۔