Tuesday, 16 October, 2007, 13:05 GMT 18:05 PST
ہندوستان کے دارالحکومت دلی کی ایک ذیلی عدالت نے دس برس قبل کے ایک پولیس مقابلے میں دس پولیس اہلکاروں کو مجرم قرار دیا ہے اور تمام کے تمام کو سزائیں چوبیس اکتوبر کو سنائی جائیں گی۔
مجرم قرار دیے جانے والوں میں دلی پولیس کے معطل اسسٹنٹ سپرنٹینڈنٹ آف پولیس ایس ایس راٹھی اور بیلسٹک ماہر روپ سنگھ بھی شامل ہيں۔
دلی پولیس پر اکتیس مارچ انیس سو ستانوے کو دلی کے ایک پرہجوم بازار کناٹ پلیس ميں بھری دوپہر کو کار میں سوار دو تاجروں پردیپ گوئل اور جگجیت سنگھ کو گولی مار کر ہلاک کرنے کا الزام تھا۔
شام کو پولیس نے ایک اخباری کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے جرائم پیشہ گروہوں کے دو بڑے سرغنوں کو تصادم میں ہلاک کیا ہے۔ تفتیش کے بعد مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی نے اس معاملے میں دس پولیس والوں کو ملزم بنایا تھا۔
منگل کودلی کی ایک ذیلی عدالت نے اپنے فیصلے میں تصادم کے وقت پولیس ٹیم کی قیادت کرنے والے ایس ایس راٹھی سمیت سبھی دس ملزمان کو قتل کا مرتکب قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ تصادم کے بعد پولیس کا کہنا تھا سرغنہ بتائے جانے والے دونوں افراد نے پہلے گولی چلائی تھی جس کے جواب میں پولیس نے گولی چلائی جس کے نتیجے میں دونوں کی موت ہوگئی۔
پولیس کمشنرمستعفی ہوگئے تھے |
اس تصادم کے لیے پندرہ پولیس اہلکاروں کو ملزم بنایا گيا تھا لیکن سی بی آئی کی دلیل تھی کہ پندرہ میں دو کے پاس بندوقیں نہیں تھیں اور تین پولیس والوں نے گولی نہيں چلائی تھی۔ اس لیے صرف دس کے خلاف مقدمہ چلنا چاہیے۔ پولیس کے خلاف قتل، مجرمانہ سازش اور غلط ثبوت جمع کرنے کے الزام لگائے گئے تھے۔
اس وقت دلی پولیس کمشنر نکھیل کمار نے اپنی ’بھول‘ کا اقرار کیا تھا اور واضح طور پر کہا تھاکہ یہ ’غلط شناخت‘ کا معاملہ تھا۔ وہ اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔