ریاض مسرور
بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں پچھلے اٹھارہ سال سے مسلح مزاحمت کررہی عسکری جماعتوں کے اتحاد متحدہ جہاد کونسل نے انڈین افواج کے خلاف تین روزتک یکطرفہ ’سیز فائر‘ کا اعلان کیا ہے۔
اعلان کو علیٰحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی کے سِوا تمام سیاسی حلقوں نے سراہتے ہوئے حکومت ہند سے اپیل کی ہے کہ وہ جہاد کونسل کے اس ’مثبت اقدام‘ کا مثبت جواب دے۔
پیر کو ایک مقامی خبر رساں ادارے کو پاکستانی زیرانتظام کشمیر سے فیکس پر بھیجے گئے بیان میں جہاد کونسل کے ترجمان نے کہا ہے کہ حزب المجاہدین کے سربراہ اور جہاد کونسل کے چیئرمین محد یوسف شاہ عرف سید صلاح الدین کی سربراہی میں کونسل کا ایک غیرمعمولی اجلاس ہوا جس میں بارہ اکتوبر سے چودہ اکتوبر تک جموں کشمیر میں سرگرم تمام مسلح شدت پسند گروپوں کو کارروائیاں معطل کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ ترجمان کے مطابق ’میدان کارزار میں سرگرم مجاہدین سے کہا گیا ہے کہ اس حکم پر سختی کے ساتھ عمل کریں۔‘
جولائی سنہ دو ہزار میں بھی حزب المجاہدین نے یکطرفہ فائر بندی کا اعلان کیا تھا جسکے بعد حکومت ہند کی وزارت داخلہ کے افسروں کی ایک ٹیم اور حزب کمانڈروں کے درمیان سرینگر میں مذاکرات کا ایک دور بھی ہوا تھا۔ تاہم پندرہ روز کے بعد سیز فائر کا یہ فیصلہ واپس لیا گیا اور حزب نے اس کا جواز یہ بتایا کہ حکومت ہند نے مذاکرات میں اپنا روایتی مؤقف دہرانے کے سِوا کچھ نہیں کہا۔
![]() |
اسلامک سٹوڈنٹس لیگ کے لیڈر شکیل بخشی نے اس حوالے کہا کہ ’حزب المجاہدین کا یہ فیصلہ ہندوستانی وزیراعظم کے اُس بیان کا جواب ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر عسکریت پسند واقعی چاہتے ہیں کہ یہاں امن ہو تو انہیں سیزفائر میں پہل کرنا ہوگی۔‘
سابق مسلح کمانڈر اعظم انقلابی اس فیصلہ کو کشمیریوں کو سکون دلانے کا ایک اقدام سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’حکومت ہند ہمارے تہواروں کے موقعہ پر مختلف بہانوں سے ہمارے لوگوں کو ہلاک کرواتی تھی۔ تین روز تک انہیں کوئی بہانہ نہیں ملے گا۔‘
میر واعظ عمر فاروق نے، جوتشدد کے مقابلے میں بات چیت کو مسئلہ کشمیر کے حل کا بہترین ذریعہ سمجھتے ہیں، اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ حکومت ہند کے لئے ایسِڈ ٹیسٹ ( فوری آزمائش) ہوگا۔ ہم دیکھیں گے کہ دلّی والوں نے ردعمل نہ دکھایا تو دُنیا دیکھے گی کہ مسائل کے حل میں تشدد کا حامی کون ہے اور کون افہام و تفہیم کے حق میں ہے۔‘
![]() |
واضح رہے قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ہفتے جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر حکومت ہند کی طرف سے کوئی ’سنجیدہ اور بامعنی‘ پیشکش آتی ہے تو وہ سیز فائر کی تجویز پر غور کریں گے لیکن اس کے فوراً بعد انڈیا کی شمالی کمان کے سربراہ جنرل ایچ ایس پناگ نے جنگ بندی کے امکان کو مسترد کردیا۔ بعد ازاں اُنیس ستمبر کو ہندوستانی وزیر دفاع نے بھی کہا کہ فائربندی سے ’دہشت گردوں کے حوصلے بلند ہوجائیں گے۔‘
چند روز قبل جب ہندوستان کے نئے فوجی سربراہ جنرل دیپک کپور نے بھی سرینگر میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’فوجی آپریشن کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے، تاہم اگر کوئی فیصلہ سیاسی سطح پر ہوتا ہے تو فوج اس پر عمل کرے گی۔‘
واضح رہے کہ پچھلے ایک ماہ سے عسکریت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن میں فوج اور پولیس فورسز نے پچاس کے قریب مسلح شدت پسندوں کوہلاک کیا ہے ،جن میں کئی سینیئر عسکری کمانڈر بھی شامل ہیں۔ان تصادموں میں تین فوجی میجر اور نو اہلکار بھی مارے گئے۔
عام لوگوں کو تکلیف |
کب کیا ہوا؟
1994 تا 1998 : ریاست کے پہلے مسلح گروپ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے یکطرفہ فائر بندی کا اعلان کیا اور سیاسی جدوجہد کو متبادل کے طور اپنایا۔
1996: کشمیر کی سب سے طاقت ور عسکری جماعت حزب المجاہدین کے چار کمانڈروں نے تشدد ترک کرکے سیز فائر کا اعلان کیا اور اُسوقت کے ہندوستانی وزیرداخلہ ایس بی چوہان کے ساتھ دلّی میں ملاقات کی۔
2000: جولائی میں حزب المجاہدین کے اُس وقت کے چیف کمانڈر عبدالمجید ڈار نے سرینگر میں ایک پریس کانفرنس میں سیز فائر کا اعلان کیا۔ اس کے بعد ڈار کے نمائندہ کمانڈروں نے سرینگر میں حکومت ہند کے داخلہ سیکرٹری کی ٹیم کے ساتھ مذاکرات کیے۔ پندرہ روز بعد سیزفائر ختم کیا گیا اور بعد ازاں مذاکرات میں شامل تقریباً سبھی کمانڈر ایک ایک کرکے مارے گئے۔ عبدالمجید ڈار کو بھی سوپور میں پاکستان روانگی سے قبل نامعلوم افراد نے گولی مار کر ہلاک کردیا۔
اسی سال نومبر میں وزیر اعظم اٹل بہاری واچپائی نے ماہ رمضان کے پیش نظر مسلح شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن روک دینے کا اعلان کیا ۔ فوج نے اس فیصلہ کو سیز فائر کا نام دینے سے احتراز کیا اور کہا کہ یہ دراصل جنگجوؤں کے خلاف غیر اقدامی آپریشن جاری رہینگے یعنی جوابی کاروائی کےطور فوج سرگرم رہے گی۔