Thursday, 04 October, 2007, 12:09 GMT 17:09 PST
کرس مورس
بی بی سی نیوز، جلپائی گوڑی، مغربی بنگال
لیکن ان افراد پر مصیبت کاپہاڑ اس وقت ٹوٹ پڑا جب پانچ برس قبل سٹیٹ کا مالک بغیر کسی وجہ کے کاروبار بند کر کے چلا گیا۔ اس نے ان بے سہارا مزدروں کی باقی تنخواہیں بھی ادا نہیں کیں اور انہیں متبادل روزگار بھی فراہم نہیں کیا۔
یہاں جو مزدور کام کرتے تھے ان کا کہنا ہے کہ وہ خوراک کی کمی کی وجہ سے رفتہ رفتہ موت کے آغوش میں جا رہے ہيں۔
خوراک کی کمی سے ہلاک ہونے والوں کی صحیح تعداد کا پتہ لگانا مشکل ہے لیکن ایک اندازے کے مطابق ایک برس سے بھی کم مدت میں اس علاقے میں سات سو سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
رامجھورا کے ایک مقامی لیڈر پراہلاد شرما کا کہنا ہے کہ مقامی لوگ کام کرنا چاہتے ہیں انہیں مدد کی شدید ضرورت ہے۔
![]() | |
| رامجھورا میں قائم ایک مقامی ہسپتال |
مسٹر شرما ان حالات کا ذمہ دار باغان کے مالک کو قرار دیتے ہیں جو اچانک باغبانی چھوڑ کر چلے گئے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت نے یہ زمین اپنے قبضے میں لے لی تو اس کا اب صحیح استمعال بھی ہونا چاہیئے تاکہ ہماری زندگی بہتر ہوسکے‘۔
لکشمی گوسین کے چار بچے ہیں اور وہ اکیلی اپنے بچوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔ لکشمی کے خاوند کی موت تین سال پہلے ہوئی تھی۔ لکشمی نے اپنا چوتھے بچے کو پیدائش کے فوراً بعد ایک یتیم خانے کو دے دیا تھا۔ گزشتہ ماہ اس کا گھر ایک ہاتھی نے برباد کردیا تھا۔
لکشمی کبھی کبھی پتھر توڑنے کا کام کرتی ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ زیادہ تر وقت وہ کمزوری کا شکار رہتی ہے۔ بقول لکشمی اس کے علاقے کے بیشتر لوگوں کا یہی حال ہے کیونکہ ان سب کے پاس پیٹ بھر کھانے کے لیے بھی نہیں ہے۔
![]() | |
| عورتیں بھی مردوں کے ساتھ ساتھ باغوں میں کام کرتی ہیں |
لکشمی مزید بتاتی ہیں ’میرے خاوند کی موت بھی ایسے ہی ہوئی تھی۔ وہ بھوکے پیٹ کام کرتا تھا۔ چائے کا باغ بند ہونے کے بعد اس کے پاس کمانے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا‘۔
کام کی تلاش میں کچھ جوان دلی اور کولکتہ چلے گئے ہیں اور کچھ سرحد پار بھوٹان، جہاں وہ کم تنخواہ پر مقامی تعمیراتی اداروں میں کام کرتے ہیں۔ لیکن بیشتر لوگ اس امید کے ساتھ رامجھورا میں رہتے ہیں کہ حالات بہتر ہوسکتے ہیں۔ ان کے باہر نہ جانے کی ایک وجہ یہ بھی کہ انہیں یہ ڈر ستاتا رہتا ہے کہ ان کے گھر میں اچانک کسی کی بھی موت ہوسکتی ہے۔
رامجھورا ایک ہرا بھرا اور زرخیز علاقہ ہے اور بھوک سے مرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ حالانکہ خوراک کی کمی سے پوری برادری کمزور پڑگئی ہے اور اس کے سبب انہیں ٹی بی اور خون کی کمی جیسی بیماریاں ہوگئی ہیں۔
![]() | |
| رامجھورا میں چائے فیکٹری جو اب بند ہو چکی ہے |
چائے کے باغوں کے مالک باغ اس لیے چھوڑ چھوڑ کر جا رہے ہیں کہ انہیں وہ منافع نہیں ہو رہا جس کی انہیں امید تھی۔
رامجھورا میں صرف چائے کے باغات کی وجہ سے سات ہزار سے زیادہ افراد کا روزگار قائم تھا جو اب ختم ہو چکا ہے۔
ریاستی حکومت نے متاثرہ افراد کے لیے خوردنی اشیاء اور ادویات فراہم کی ہیں۔ لیکن بیشتر افراد کا کہنا ہے کہ انہیں آدھے سے بھی کم پیٹ کھانا ملتا ہے اور بعض کے لیے یہ مقدار بالکل ناکافی ہے۔
پرہلاد شرما کا کہناہے ’آنے والے دن اور بھی خراب ہو سکتے ہیں کیونکہ سردیوں میں چائے کے باغوں کام یوں بھی ختم ہو جاتا ہے اور علاقے میں اور کوئی کام ہوتا نہیں اس لیے کسی کے بھی پاس کھانے کا سامان یا کھانا خریدنے کے لیے پیسے نہیں ہوں گے‘۔
لیکن رامجھورا سے تھوڑی دور دارجلنگ اور مغربی بنگال میں حالات بہتر ہیں اور چائے کے باغ خوب پھل پھول رہے ہیں۔
![]() | |
| جب باغ تھے تو کچھ امیدیں بھی تھیں لیکن اب امید بھی نہیں ہے |
مسٹر بینرجی کا کہنا ہے کہ رامجھورا کے باغان پھر سے پھل پھول سکتے ہیں اگر کوئی ان کی صحیح دیکھ بھال کرے۔