ہندوستان کے وزیر داخلہ شیو راج پاٹل نے متنبہ کیا ہے کہ شدت پسند جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لے رہے ہيں اور وہ ممکنہ حملوں میں مذہبی مقامات اور اہم شخصیات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
بدھ کو ڈائریکٹرز اینڈ انسپکٹرز جنرل آف پولیس کی ایک کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر پاٹل نے کہا ’ یہ واضح ہو گیا ہے کہ شدت پسند جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں اور وہ اپنے حملوں میں اس ٹیکنالوجی کی مدد لے سکتے ہيں۔‘
ان کہنا تھا کہ ’شدت پسند مذہبی مقامات کو نشانہ بنا سکتے ہیں، پولیس ان کے نشانے پر ہو سکتی ہے اورسیاست دان اور دوسری اہم شخصیات پر بھی حملے ہو سکتے ہیں۔‘
وزیر داخلہ نے پولیس کے اعلی اہلکاروں کو تنبیہہ کرتے ہوئے کہا کہ ’شدت پسند ممکنہ طور پر عوامی تشہیر کا طریقہ بھی استعمال کر سکتے ہیں تا کہ عوام کو گمراہ کیا جا سکے۔ اور اپنے حملے کےلیے وہ پرہجوم والے مقامات کا انتخاب کریں گے جہاں معصوم عوام جمع ہوتے ہیں۔‘
خفیہ اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا ’پاکستانی شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ اور جیش محمد کے ’سلیپر سیل‘ ملک میں موجود ہیں اور شدت پسند تنظیمیں جب بھی چاہیں گی ان کو متحرک کر سکتی ہيں۔‘
![]() | |
| حملہ آور بھیڑ والے مقامات کا انتخاب کریں گے جہاں معصوم عوام جمع ہوتے ہیں |
انہوں نے سیکورٹی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب عدم تحفظ ہوگا تو سرمایہ کاری میں کمی آئے گی اوراس وجہ سے ترقی میں رخنہ پیدا ہوگا۔
مسٹر پاٹل نے ریاستوں میں آبادی کے تناسب میں پولیس کی کم ہوتی تعداد پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا ہے کہ خالی پڑی اسامیوں پر نئی بھرتی میں تاخیر کرنا ٹھیک نہیں ہوگا۔
وزیر داخلہ نے کسی ریاست کا نام لیے بغیر کہا کہ پولیس نظام میں بہتری کےلیے مرکزي حکومت کی جانب سے جو رقوم ریاستی حکومتوں کو مہیا کی جاتی ہیں ان کا صحیح استعمال نہیں کیا جا رہا۔
وزیر داخلہ کا بیان اس لیے اہم ہے کہ ہندوستان میں ہونے والے حالیہ شدت پسند حملے زیادہ تر مذہبی مقامات یا پر ہجوم بازاروں میں ہوئے ہیں اور چند دنوں بعد ملک میں تہواروں کا دور شروع ہونے والا ہے جن میں عید، دیوالی اور درگا پوجا کے تہوار شامل ہیں۔