Saturday, 29 September, 2007, 16:29 GMT 21:29 PST
ریاض مسرور،
بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر٫
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیرمیں پولیس کےمطابق مسجد میں پناہ لینے والے مسلح شدت پسندوں اورسکیورٹی دستوں کے مابین دس گھنٹے سےگولیوں کا تبادلہ جاری ہے۔
پولیس کا دعوٰی ہے کہ مسجد میں پانچ مسلح شدت پسند موجود ہیں جو محاصرے پر مامور فوجی اہلکاروں پر فائرنگ کررہے ہیں۔
پولیس ترجمان کے مطابق ضلع بڈگام کے چرار شریف علاقے میں شدت پسندوں کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاع ملنے پر علی الصبح پولیس اور فوج کی ایک مشترکہ پارٹی نے تجن گاؤں کا محاصرہ کیا۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ محاصرے کے دوران مقامی مسجد میں چھپے مسلح شدت پسندوں نےفوجی اہلکاروں پر فائرنگ کی۔ اس طرح دو طرفہ فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا جو آخری اطلاعات ملنے تک جاری تھا۔
سرینگر اور بڈگام کے ایس ایس پی آپریشنز عاشق بخاری نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مسجد میں پانچ شدت پسند ہیں اور پانچوں مقامی ہیں‘۔
انہوں نے بتایا کہ افطار کے وقت آپریشن روک لیاگیا لیکن صبح سے شدت پسند فائرنگ کرر ہے ہیں۔ مسٹر بخاری کا کہنا ہے کہ ’مقدس مقام کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے بعض مقامی معزز شہریوں کے ذریعہ مسجد میں چھپے شدت پسندوں کو ہتھیار ڈالنے کے لئے آمادہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ’ ہم رات بھر محاصرہ جاری رکھیں گے، دیکھتے ہیں کیا ہوگا، اگر انہوں نے فائرنگ کا سلسلہ روک لیا تو بات بنے گی، ورنہ ہم آپریشن جاری رکھیں گے‘۔
اس حوالے سے فوجی ترجمان انِل کمار ماتُھر نے بتایا کہ، ’بڈگام ضلع ویسے تو پرامن ہے، لیکن شدت پسند رات کے دوران سفر کرتے ہیں، اسی دوران ہمیں اطلاع ملی کہ وہ مسجد میں ہیں۔ ہم تو نہیں چاہتے کہ مسجد کو نقصان پہنچے، اسی لئے ہم انہیں سرینڈر کر نے پرمجبور کرنے کی کوشش کررہے ہیں‘۔
اس دوران پولیس اور فوج نے مسجد سے ملحقہ علاقہ کو چاروں طرف سے گھیرنے کے علاوہ پورے علاقہ کی ناکہ بندی کرلی ہے۔