http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 27 September, 2007, 16:25 GMT 21:25 PST

نارائن باریٹھ
جے پور

ایڈز بیٹی ملنے میں رکاوٹ

ریاست راجستھان کی ایک عدالت نے ایک خاتون کو اس کی بیٹی سوپنے سے اس لیے انکار کر دیا کیوں کہ وہ ایڈز کی مریض ہے اور اپنی بیٹی کی پرورش کرنے کے لیے قابل نہیں ہے۔

مریضہ نے عدالت کے فیصلے کو اعلی عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

در اصل یہ خاتون ایک فوجی کی بیوہ ہیں۔ان کے شوہر ایڈز کے مریض تھے۔شوہر کی موت کے بعد سسرال والوں نے انہیں گھر سے نکال دیا تھا ۔اس کے علاوہ ان کی نو سال کی بیٹی کو بھی اسے دینے سے انکار کر دیا۔

ریکھا (بدلا ہوا نام ) نے جب عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تو عدالت نے یہ کہہ کر اس کی درخواست مسترد کر دی کہ ایک ایڈز کی مریضہ اپنی بیٹی کی صحیح طریقہ سے دیکھ بھال نہیں کر سکے گی۔

اس کے علاوہ عدالت نے سماعت کے دوران خاتون کا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کو بھی مسترد کر دیا۔

فیصلے کے خلاف ریکھا نے ضلعی عدالت میں اپیل دائر کی ہے کہ ایڈز کے مریض کی شناخت ظاہر کرنا سپریم کورٹ کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

ریکھا کے وکیل اے کے جین کہتے ہیں کہ ایسے معاملے میں کوئی بھی مریض کا نام ظاہر کرتا ہے تو وہ توہین عدالت کے زمرے میں آ سکتا ہے۔

ریکھا کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو اس کا حق دلانا چاہتی ہیں۔

راجستھان میں ایڈز کے مریضوں کے لیے کام کرنے والی سشیلا کہتی ہیں ان کے پاس ایسی تین سو عورتوں ہیں، ان عورتوں کو بہت برے سلوک کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سشیلا کا کہنا ہے کہ ان ميں زیادہ تر پڑھی لکھی نہیں ہیں ان انہيں اپنے حقوق کے بارے میں پتہ بھی نہیں ہے۔