Friday, 21 September, 2007, 19:09 GMT 00:09 PST
نادیہ پرویز
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ جب جولائی دو ہزار پانج میں ہندامریکہ جوہری معاہدے پر دستخط کر رہے ہوں گے تو شاید ان کے ذہن میں بھی نہیں ہوگا کہ یہ دستخط ان کی حکومت کے لیے کس قدر مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
ہند امریکہ جوہری معاہدے پر خود حکومت کی حمایتی بائيں بازو کی جماعتوں نے اس حد تک مخالفت کی کہ ذرائع ابلاغ سمیت تقریباً سبھی سیاسی حلقوں میں اس امکان کا ذکر کیا جا رہا ہے کہ موجودہ قومی ترقی پسند محاذ (یو پی اے) کی حکومت اپنے اقتدار کے پانچ برس پورے نہیں کر پائے گی۔
اس معاہدے کے تحت انڈیا جوہری ایندھن اور ری ایکٹر کا سازوسامان امریکہ سے حاصل کر سکے گا اور اس کے عوض وہ اپنی جوہری تنصیبات کے بین الاقوامی معائنے کی اجازت دے گا، مزید جوہری تجربات نہیں کرے گا اور دوسرے ممالک کو یہ ٹیکنالوجی بھی نہیں دے گا۔
اس معاہدے کے بارے میں ملک کے دانشور اور تجزیہ نگار مختلف آراء رکھتے ہیں۔
اقتصادی اور سیاسی فائدے |
دوسرا حلقہ دائيں بازو کا نظریہ رکھنے والوں کا ہے جن کا کہنا ہے کہ انہیں ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تعاون اور اشتراک کے رشتوں پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن یہ معاہدے ہندوستان کی شرائط پر ہونا چاہیں۔ معاہدے میں اس طرح کی کوئی پابندیاں نہیں ہونی چاہیے جس سے مستقبل میں ملک کوئی جوہری تجربہ نہ کر سکے۔ لہٰذا اس قسم کے دباؤ سے بچنے کے لئے یورینیم ایسے ملکوں سے بھی خریدی جا سکتی ہے جو نیوکلیئر سپلائر گرپ (این ایس جی) میں شامل نہیں ہیں۔
سلامتی کے امور کے ماہر اور مشہور صحافی برہما چیلانی کا کہنا ہے کہ فی الحال حکومت یہ نہیں بتا رہی ہے کہ توانائی کے دوسرے وسائل کے مقابلے میں جوہری توانائی کافی مہنگی ہے اور نئے جوہری پلانٹ بنانے میں چھ سال لگتے ہیں جبکہ اگر کولڈ فائر پلانٹ یا گیس فائر پلانٹ یا ونڈ مل بنائیں تو وہ ایک سے دو برس میں بن جائيں گے۔
سب سے شدید مخالفت بائيں بازو کی جماعتوں کی ہے جو ہند امریکہ دفاعی اشتراک کی سخت مخالفت کرتی ہیں۔ جوہری ہتھیاروں کے بارے میں وہ زیادہ کچھ نہيں کہتے لیکن ان کا کہنا ہے کہ ملک کی خود مختاری پر کوئی آنچ نہیں آنی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کا اس ڈیل سے امریکہ کا اپنی من مانی کرے گا۔ جوہری توانائی کے بارے میں ان جماعتوں کا کہنا ہے کہ وہ اس کی مخالفت نہیں کرتیں لیکن اس سے کوئی فائدہ بھی نہیں ہے۔
ایک طبقہ ایسا ہے جو جوہری ہتھیاروں کی سرے سے مخالفت کرتا ہے۔ ’نیشنل کولیشن آف نیوکلیئر ڈس آرمامنٹ اینڈ پیس‘ کے پروفیسر اچن ونایک کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ اشتراک کی مخالفت کرتے ہیں۔ ’اس ڈیل کے ساتھ صرف انڈيا کے جوہری ہتھیار ہی باقائدہ طور پر جائز نہیں ہوں گے بلکہ امریکہ کے جوہری ہتھیاروں کا نظام بھی جائز قرار دیدیا جائےگا۔ اس ڈیل سے صرف خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ میں اضافہ ہوگا اور سِولین نیوکلئر انرجی کی ضرورتوں کو بھی پورا نہیں کیا جا سکے گا۔‘ ان کا کہنا ہے کہ یورپ کے سبھی ممالک جوہری توانائی سے نجات پانے کی تیاری کر رہے ہیں۔
مسٹر اکبر کا کہنا ہے کہ حکومت کی کارکردگی اور بائيں بازو کی جماعتوں کی مخالفت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ’دونوں کا سیاسی رشتہ ٹوٹ چکا ہے۔ اب طلاق کب ہو گی یہ دیکھنے والی بات ہے۔‘
آئندہ عام انتخابات کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ صورت حال میں بہت زیادہ تبدیلی نہیں آئے گی اور ان انتخابات میں ہندامریکہ جوہری معاہدے سے کہیں زيادہ مہنگائی کا مسئلہ انتخابی مہم کا اہم موضوع بن کر سامنے آ سکتا ہے۔