Saturday, 22 September, 2007, 12:22 GMT 17:22 PST
نعیمہ احمد مہجور
بی بی سی اردو لندن
کشمیر کا رائل گاکف کلب دنیا کے دس بڑے گالف کلبوں میں سےایک ہے اور انتہائی خوبصورتی کی وجہ سے بڑی تعداد میں غیر ملکی گالفرز اس کی رکنیت حاصل کرنے لگے ہیں۔
رائل گالف کلب سرینگر میں زبرون پہاڑوں کی آغوش میں واقع ہے۔ اس کے آس پاس گھنے جنگل اور دامن میں ڈل جھیل کی شفاف موجوں کی وجہ سے یہ دنیا کا خوبصورت ترین گالف کلب ہے۔
گالف کلب میں اس وقت گالفرز کی تعدادایک سو بیس ہے جن میں زیادہ ترغیر ریاستی ہیں۔ کشمیر میں سرینگر گالف کلب اور گلمرگ گالف کلب پہلے ہی غیرملکی گالفرز کے پسندیدہ کلب ہیں مگر سن دو ہزار دو میں رائل گالف کلب کے کھلنے کے بعد بیشتر گالفر یہاں گالف کھیلنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
دھند میں لپٹے زبرون پہاڑ پر قائم، مغلیہ خاندان کےشہزادہ دارا شکوہ کا محل نظر آتاہے جو پری محل کے نام سے مشہور ہے اور بے شمار سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہے۔
ریاست میں مسلح تحریک کے پیش نظر پری محل تقریباً پندرہ برس بند رہا اور آج بھی بھارتی سیکورٹی فوج کا اہم اڈہ ہے مگر چند برس پہلےحالات میں ذرا بہتری آنے کے بعد پری محل کو سیاحوں کے لیے کھول دیا گیا ہے البتہ ان کی سیکورٹی کے لیے بی ایس ایف چوبیس گھنٹے چوکنا رہتی ہے۔
رائل گالف کلب کی دیکھ بھال کے لیے سارا سازو سامان امریکہ سے منگوایا جاتا ہے اور کلب کے عملے کے کئی اراکین کو امریکی ماہرین نے اس کی تربیت بھی دی ہے۔
گالف کلب کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ گولف کھیلتے ہوئے ایک فیر ویو سے دوسرے فیرویو پر نظر نہیں پڑتی اور گالفرز ایک دوسرے کو کھیلتے نہیں دیکھ سکتے۔مقامی گالفر شفاعت احمد کہتے ہیں کہ یوروپ کےگالف کلبوں کے مقابلے میں یہاں معمولی رقم کے عوض گالف کھیلی جاتی ہے اور جو سہولیات اس کلب میں ملتی ہے اس کی قیمت بیرونی ملکوں میں دس گنا پڑتی ہے مگر ریاستی حکومت نے اسکی تشہیر پر توجہ نہ دے کر کلب کو کافی نقصان پہنچایا ہے ۔
سیاحت کے اعلٰی افسر فاروق احمد شاہ کہتے ہیں کہ انڈیا نے سیاحت کے نقشے پر اب اس کلب کو سرفہرست رکھا ہے اور اسکی تشہیر کی وجہ سے ہی عالمی شہرت یافتہ گالفر یہاں کھیلنے کا ارادہ رکھتے ہیں البتہ اسکا دارو مدار وادی کے حالات پر ہے کہ کیا وہ نارمل رہ کر بین القوامی گالف مقابلہ یہاں کرانے کی اجازت دیتے ہیں۔
گالف کلب میں اگرچہ کشمیر انتظامیہ کے اعلٰی افسروں کی بڑی تعداد موجود رہتی ہے اور اس پورے علاقے میں وزیراعلٰی سمیت بعض وزیروں کی رہائش گاہ کی وجہ سے یہاں انتہائی سیکیورٹی کے انتظامات ہوتے ہیں اس وجہ سے یہ گالف کلب عام کشمریوں کے لیے شجر ممنوعہ سے کم نہیں اور ہر کسی کو یہاں آنے کی اجازت نہیں ملتی۔
بعض کشمیری شکایت کرتے ہیں کہ ریاست کا ہر خوبصورت مقام غیر ملکیوں کے لیے وقف ہے جبکہ انہیں اپنے ہی گھر میں رہنے کی اجازت حاصل کرنی پڑتی ہے۔