Wednesday, 19 September, 2007, 10:40 GMT 15:40 PST
صلاح الدین
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
ہندوستان کی سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ سکول میں داخلے کے فارم پر طلباء کو ان کی ذات ظاہر کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا ہے۔
ملک کے بیشتر علاقوں میں سکولز کے فارم پر ذات پات کا ایک کالم ہوتا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ یہ شرط اختیاری ہے لازمی نہیں۔
اس حوالے سے سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی ایک عرضی داخل کی گئی تھی جس میں عدالت سے سکول کے فارم پرذات پات کے سوال کو پوری طرح ختم کرنے کی گزارش کی گئي تھی۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ہے چونکہ بہت سے طلباء ذات پات کی بنیاد پر سکالر شپ جیسے فائدے حاصل کرتے ہیں اس لیے اس پر پابندی عائد نہیں کی جا سکتی۔
پروفیسر پانڈے کا کہنا تھا کہ آج کل ذات کی بنیاد پر کئی طرح کے فائدے حاصل کیے جا سکتے ہیں اس لیے بہت سے لوگ ذات کے جھوٹے سرٹیفیکٹ تک حاصل کرلیتے ۔
سماجی تجزیہ کار یوگیندر یادو کاکہنا ہے کہ اعلٰی تعلیمی اداروں اور ملازمتوں میں ریزرویشن کا سسٹم ذات پات کی بنیاد پر مبنی ہے اس لیے سکولز فارمز سے اسے ختم نہیں کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ’ اگر اعلی تعلیمی اداروں میں داخلے اور ملازمتوں میں ریزرویشن کی سہولت سے فائدہ اٹھانا ہے تو ذات پات کا ذکر ضروری ہوگا۔
جامعیہ ملیہ اسلامیہ سکول کی پرنسپل آرایف نقوی کہتی ہیں داخلے کے فارم پر یہ کالم ہے لیکن لازمی نہیں ہے۔’ بہت سے طلباء ریزرویشن کے فائدے کے لیے ذات کا ذکر کرتے ہیں اور اس کے لیے انہیں سرٹیفیکٹ بھی دینا ہوتا ہے، لیکن بہت سے نہیں کرتے تو یہ ضروری نہیں ہے، جو لوگ فارم میں ذات کا ذکر کرتے ہیں ہم انہیں ضرورت پڑنے پر سرٹیفکٹ بھی جاری کرتے ہیں‘۔
مفاد عامہ کی عرضی میں کہا گیا تھا کہ ملک کے بیشتر حصوں میں سکولز طلباء کو اپنی ذات ظاہر کرنے پر مجبور کرتے ہیں جس سے ذات پات کو بڑھاوا ملتا ہے اس لیے اسے پوری طرح سے ختم کردیا جائے۔ عرضی گزار نے کہا تھا کہ ذات پات کی بنیاد پر طلباء کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جاتا ہے جس کے سبب کئی بار ان کے نتائج تک متاثر ہوتے ہیں۔