Wednesday, 19 September, 2007, 10:57 GMT 15:57 PST
ریحانہ بستی والا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
بامبے شیئر بازار نے بدھ کو ایک بار پھر لمبی چھلانگ لگائی اور شرح اعشاریہ سولہ ہزار کی اونچائیوں کو پار کرگیا۔ بدھ کی صبح جب بازار کھلا تو اس میں چار سو تئیس پوائنٹ کا اضافہ ہو چکا تھا۔ گزشتہ روز بازار پندرہ ہزار پر بند ہوا تھا۔
بامبے سٹاک ایکسچینج کے ساتھ نیشنل سٹاک ایکسچینج نفٹی نے بھی ایک سو تیرہ پوائنٹ کے اضافہ کے ساتھ چار ہزار چھ سو انسٹھ کی حد پار کر لی ہے۔
صرافہ بازار کے ذرائع کے مطابق فیڈرل بینک نے شرح سود میں پچاس پوائنٹ کی کمی کی ہے۔ ڈالر کی شرح سود پہلے 5.25 تھی جو گھٹ کر 4.75 ہو گئی ہے جس کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کاروں نے ایشیائی بازار کا رخ کیا ہے۔
شیئر بازار کے ایک ایجنٹ پیتامبر آہوجہ کے مطابق بازار پر غیرملکی سرمایہ کاروں کا پوری طرح قبضہ ہے۔’ایف آئی آئی ( فورین انویسٹرز انسٹی ٹیوٹ ) جب چاہیں ایشیائی بازار میں فنڈ ڈال کر اسے اونچائیوں تک پہنچا سکتے ہیں یا جب چاہیں اپنا سرمایہ نکال کر بازار کی پوزیشن خراب کر سکتے ہیں۔‘
آہوجہ کے مطابق تمام بازار ایف آئی آئی اور میئوچیول فنڈ کمپنیوں کے ہاتھوں میں ہے۔ ’ابھی امریکہ کے فیڈرل بینک نے شرح سود میں محض پچاس پوائنٹ کی کمی کی ہے اور بازار نے اتنا اچھال کیا ہے، لیکن جب بڑی تعداد میں شیئر فروخت ہونے لگیں گے تو بازار ایک بار پھر لڑکھڑائے گا اور شاید دو تین دن بعد یہی ہو۔‘
بڑی کمپنیاں |
یومیہ کاروبار کرنے والے اور چھوٹے سرمایہ کار بھی بازار میں اس تیزی کا فائدہ اٹھائیں گے۔ فیروز خان ایک چھوٹے سرمایہ کار ہیں جنہوں نے پولاری سافٹ ویئر پر اپنا سرمایہ لگایا تھا اور اب بازار میں اس تیزی کا فائدہ اٹھا کر وہ اسے آج ہی فروخت کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بازار ابھی کئی دن اور چڑھے گا لیکن بعد میں اس میں گراوٹ دیکھی جائے گی۔ آہوجہ کے مطابق بازار پر چھوٹے سرمایہ کاروں کی خرید و فروخت کا اثر نہیں ہوتا لیکن اس کے باوجود جو تین سے چار فیصد سرمایہ کار ہیں وہ اس وقت حصص فروخت کرنے کے موڈ میں ہیں اور بازار کے گرتے ہی دوبارہ خریدیں گے۔