Saturday, 15 September, 2007, 13:47 GMT 18:47 PST
ایم ایس احمد
پٹنہ
پٹنہ ہائی کورٹ نے بہار کی حکومت کوحکم دیا ہے کہ ایک ماہ کےاندر ان تین افراد کو ایک ایک لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے جنہیں ایک بحیات خاتون کے قتل کے الزام میں آٹھ ماہ تک جیل میں رہنا پڑا تھا۔
بیگوسراۓ ضلع کے مہیش رام کے سسرال والوں نے سات سال قبل تھانے میں مہیش پر اپنی بیوی رنجو دیوی کےقتل کا مقدمہ درج کرایا تھا۔ پولیس نے اس ایف آئی آر کی بنیاد پر مہیش ، اس کے بھائی گنیش رام اور دوست چندردیو کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا۔
پولیس نے اس کیس کے درج ہونے کے بعد ایک خاتون کی لاش برآمد کی جس کے بارے میں رنجو کے والدین نے یہ دعوٰی کیا کہ وہ رنجو کی لاش ہے۔
مہیش کے وکیل پرمود من ونش کا کہنا ہے کہ پولیس نے اسی بنیاد پر مہیش اور بقیہ دو افراد سے ’اقبالیہ بیان‘ بھی حاصل کر لیا کہ انہوں نے رنجو کا قتل کر دیا ہے۔مسٹر من ونش نے بتایا کہ اس واقعہ کی تفتیش پر معمور پولیس اہلکار کی اس بات کو اس وقت کے ایس پی نے بھی صحیح قرار دے دیا۔
وکیل پرمود کے مطابق مہیش کا بھائی گنیش جب ضمانت پر جیل سے چھوٹے تو انہیں معلوم ہوا کہ جس رنجو دیوی کے قتل کے الزام میں انہیں جیل ہوئی ہے وہ دراصل مغربی بنگال کے شہر آسن سول میں دوسری شادی کر چکی ہے۔
مسٹر پرمود کےمطابق گنیش نے دلی پولیس سے یہ شکایت کی کہ جس خاتون کے قتل کے الزام میں انہیں جیل ہوئی ہے وہ تو زندہ ہے۔ بقول وکیل ’دلی پولیس نے گنیش کی اطلاع پر رنجو کو پریتم پورا علاقے سے اپنی تحویل میں لے کر بہار پولیس کو مطلع کر دیا‘۔
گنیش نے جب اس کی اطلاع عدالت کو دی تو تحقیقات کے بعد مسٹر پرمود کے مطابق عدالت نے تینوں ملزمان کو بری کر دیا۔
جیل سے چھوٹنے کے بعد ان تینوں نے بلا جرم جیل بھیجنے کے بدلے معاوضے کے مطالبے کے لیے ہائی کورٹ میں عرضی دی تھی۔اس معاملے کی سماعت کے بعد جسٹس نونیت پرساد سنگھ نے معاوضہ دینے اور متعلقہ پولیس افسران کے خلاف بھی سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ سنایا۔
دوسری جانب حکومت کے وکیل للت کشور کی دلیل تھی کہ ایف آئی آر اور مبینہ ’مقتول‘ کے والدین کے ذریعہ لاش کی تصدیق کی بنیاد پر ملزمان کوگرفتار کر جیل بھیجا گیا تھا۔