http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 12 September, 2007, 15:55 GMT 20:55 PST

سمندری منصوبے کے خلاف احتجاج

ہندو نظریاتی تنظیموں کے کارکنوں نے مجوزہ سیتو سمندرم پروجیکٹ کے خلاف بدھ کو مظاہرے کیے۔ اس منصوبے کی تکمیل سے ہندوستان اور سری لنکا کے درمیان سفر کا فاصلہ کم ہو جائے گا۔

ہندوستان کی حکومت ’سیتو سمندرم‘ نامی اس پروجیکٹ کے تحت بھارت اور سری لنکا کے درمیان بحری جہازوں کے آنے جانے کے لیے ایک راستہ بنایا جائےگا۔ اس پروجیکٹ کے پورا ہونے کے بعد بھارت کے مشرقی حصہ سے مغربی علاقہ تک جانے کے لیے سری لنکا کا پورا چکر لگانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے سفر کا وقت کافی وقت بچ جائےگا اور تجارت میں بھی اضافہ ہوا گا۔ لیکن اس مقصد کے لیے ان سمندری چٹانوں کو کاٹنا پڑے گا جنہیں ہندو مت کی بعض تنظیمیں مذہبی اہمیت کی حامل تصور کرتی ہیں۔

ان ہندو نظریاتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ہندوستان اور سری لنکا کے درمیان سمندر میں ابھری چٹانوں کا یہ سلسلہ ہے دراصل بھگوان رام چندر نے وانر سینا (بندروں کی فوج) کی مدد سے بنایا تھا اور اس کا ذکر ان کی مذہبی کتاب رامائن میں بھی ہے۔

سابق مرکزی وزیر اور جنتا پارٹی کے رہنما سبرا منیم سوامی کی درخواست پر سپریم کورٹ نے سمندر میں راستہ بنانے کے لیے ’رام سیتو‘ کو توڑنے کے خلاف حکم امتناع جاری کیا تھا اور اس بارے میں محکمہ آثار قدیمہ سے رپورٹ مانگی تھی۔ اس مقدمہ کی آئند سماعت چودہ ستمبر یعنی جمعہ کو ہے۔
بجرنگ
بجرنگ دل کے کارکنوں نے بدھ کو احتجاج کیا

محکمہ آثار قدیمہ نے سپریم کورٹ کو مطلع کیا ہے کہ ایسے آثار یا سائنسی ثبوت نہیں ہیں جن سے یہ ثابت ہو کہ سیتو سمندرم انسانوں نے تعمیر کیا۔ محکمہ آثار قدیمہ نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ ’ایڈمز برج‘ کے نام سے مشہور اس نام نہاد پل کا آرکیالوجیکل یا آثاریاتی مطالعہ نہیں کیا گیا ہے۔ حلف نامے میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ ’ایڈمز برج‘ سے متعلق ایسے کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں جس سے اس کی آثاریاتی اہمیت کا پتہ لگانے کی ضرورت محسوس ہوئی ہو۔

سپریم کوٹ میں دائر کیےگئے حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ رامائن ایک تمثیلی داستان ہے اور اس کے واقعات کے آثاریاتی اور تاریخی ثبوت نہیں ہے۔

اس پروجیکٹ کی مخالفت کرنے والی ہندو نظریاتی تنظیموں نے بدھ کو ملک کے کئی علاقوں میں احتجاج کیا اور کئی مقامات پر سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کیں۔