Tuesday, 11 September, 2007, 09:47 GMT 14:47 PST
کانگریس کی اتحادی بائیں محاذ کی جماعتیں بھارت امریکہ جوہری معاہدے کی شدید مخالفت کررہی ہیں۔ بائیں محاذ کو معاہدے کے بعض نکات پر اختلاف ہے جس کو دور کرنے کے لیے گزشتہ منگل کو وزیرخارجہ پرنب مکھرجی کی زير قیادت پندرہ رکنی کمیٹی بنائی گئی تھی۔
کمیٹی کا یہ اجلاس ایک ایسے وقت پر ہو رہا ہے جب مارکسی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے جنرل سیکرٹری پرکاش کرات نے کہا ہے کہ وہ جوہری معاہدے پر اپنے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں کریں گے۔
جوہری معاہدے کےسلسلے میں بائیں محاذ پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اگر حکومت نے ان کے خدشات کو دور نہیں کیا تو اس کے دور رس نتائج ہو سکتے ہیں۔ بائیں محاذ کا کہنا ہے کہ موجودہ شکل میں جوہری معاہدے کی منظوری سے ہندوستان کی خارجہ پالیسی امریکہ کے دباؤ میں آجائے گی۔ اس لیے ان کا مطالبہ ہے کہ جوہری معاہدے کے نفاذ کے سلسلے میں کوئی پیش قدمی فوراً روک دی جائے۔
اس اجلاس میں یہ فیصلہ کیے جانے کی توقع ہے کہ آیا حکومت ون ٹو تھری معاہدے کے سلسلے میں جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے آئی اے ای اے اور نیوکلیئر سپلائرگروپ سے آئندہ میٹنگ میں بات چیت کرے یا نہ کرے۔
چودہ ستمبر کو ایٹمی توانائی کمیشن کے سربراہ انل کاکودکر آئی اے ای اے کے ایک اجلاس میں شرکت کے لیے ویانا جا رہے ہیں۔
حزب اختلاف کی جماعتیں بھی معاہدے کی مخالفت کر رہی ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ معاہدے کا جائزے لینے کے لیے حکومت ایک مشترکہ پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے۔