Tuesday, 11 September, 2007, 15:42 GMT 20:42 PST
ہندوستان کی شمالی مشرقی ریاست آسام اور بنگلہ دیش میں حکام کا کہنا ہے کہ سیلاب سے اب تک پندرہ لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔
آسام میں اس برس شدید بارشوں کے سبب تیسری بار سیلاب کی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ ریاست میں گزشتہ چار روز سے مسلسل بارش ہو رہی ہے۔
آسام میں تیرہ افراد ہلاک اور ہزاروں گھر، پل، بجلی کے کھمبے اور ٹیلی کمیونیکشن ٹاورز بھی بارش کی نذر ہو چکے ہیں۔
آسام کی قومی شاہراہ جو کئی شمال مشرقی ریاستوں سے گزرتی ہے تقربیاً دس مقامات پر کئی فٹ پانی کے نیچے ڈوبی ہوئی ہے جس کی وجہ سے امدادی سامان سے لدے ہزاروں ٹرک ہائی وے پر رکے ہوئے ہیں۔
آسام حکومت کے ترجمان دنیش دیکا کا کہنا ہے ’اس سال سیلاب کی صورتحال سب سے خراب رہی ہے اور اس کے سبب بھاری نقصان ہوا ہے۔‘
مسٹر ڈیکا کا کہنا ہے کہ جولائی اور اگست کے سیلاب کے بعد کھیتی کی حالت بہتر ہو رہی تھی کہ دوبارہ سیلاب آگیا۔
مسٹر ڈیکا کا کہنا ہے ’سیلاب کے اس تیسرے دور سے ان کسانوں کو بھاری نقصان پہنچے گا جنہوں نے گزشتہ دو سیلابوں سے نمٹنے کے بعد کھیتی شروع کی تھی۔ اس سے ریاست کے زرعی سیکٹر پر بہت اثر پڑے گا۔‘
ریاست میں برھمپتر ندی کے خطرے کے نشان سے اوپر بہنے کے سبب فوج نے اسی ہزار افراد کو ان کے گھروں سے محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔
آسام کے امدادی امور کے وزیر بھومی دار برمن نے بی بی سی کو بتایا کہ سیلاب سے متاثر ہونے والے ہزاروں افراد کی مدد کے لیے فوج کو بلایا گيا ہے۔
’اس وقت ہماری ساری توجہ امدادی کام پر ہے اور متاثرہ افراد کی مدد کے لیے فوج کو بلایا گیا ہے۔ لیکن میں کہوں گا کہ لوگوں کو بارش رکنے کے بعد ہی راحت ملے گی۔‘
اس برس جون میں مون سون کے شروع ہونے کے بعد ریاست میں بارش کے سبب 50 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور اب تک سیلاب سے تقریباً ایک کروڑ بیس لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔
ریاست کے دارالحکومت گوہاٹی میں کئی گھر گھٹنوں پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں اور نتیجتاً کئی رہائشی ریاست کے اونچے علاقوں میں منتقل ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
گوہاٹی کے ایک شہری نانی گوپال ماہانتا کا کہنا ہے کہ ’مسلسل بارش کے سبب شہر کے کئی حصوں میں پانی جمع ہے اور گاڑی چلانا بہت مشکل ہو گیا ہے۔‘
ادھر بنگلہ دیش میں حکام کا کہنا ہے کہ پانچ لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں اور کئی سو افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے۔ سیلاب کے سبب 5 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔
بنگلہ دیش میں ایک ماہ کے اندر سیلاب کا یہ دوسرا ریلہ ہے۔ سیلاب سے بھوٹان بھی متاثر ہوا ہے۔