http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 06 September, 2007, 17:36 GMT 22:36 PST

نادیہ پرویز
بی بی سی اردو ڈاٹ کام دلی

اڑیسہ میں اموات کی وجوہ پر تنازع

ہندوستان کے ذرائع ابلاغ میں ریاست اڑیسہ میں حالیہ اموات کی وجوہ پر تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ بعض غیر سرکاری تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ اموات بھوک اور ہیضہ سے ہو رہیں ہیں جب کہ ریاستی حکومت نے کہا ہے کہ اموات صرف ہیضہ پھیلنے سے ہو رہی ہیں۔

ریاست کے وزیر برائے رسد و خوراک منموہن سامل نے کہا ہے کہ گزشتہ چند دنوں میں ریاست میں ہیضہ اور اس طرح کی دیگر بیماریوں کے سبب تقریباً اسّی اموات ہوئی ہیں لیکن ان میں ایک بھی موت بھوک کی وجہ سے نہيں ہوئی ہے۔

اڑیسہ میں ہیضے سے 175 ہلاک

ہندوستانی ذرائع ابلاغ اور غیر سرکاری تنظیموں کے مطابق ریاست میں ہیضہ سمیت بھوک سے مرنے والوں کی تعداد دو سو پچاس سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ کالا ہانڈی ہے۔

منموہن سامل نے بی بی سی سےکہا کہ ’ کالاہانڈی کے ایک، دو پنچایتوں میں خوراک کی رسد نہيں پہنچ سکی ہے لیکن کالا ہانڈی کی حالت اتنی بری نہيں ہے جتنی ذرائع ابلاغ میں بتائی جا رہی ہے کیونکہ کالا ہانڈی پہلے سے بدل چکاہے اور جو اموات ہو رہی ہيں وہ آلودہ پانی، ہیضہ اور ڈائریا سے ہو رہی ہيں‘۔

ریاستی حکومت کی اتحادی بی جے پی کے ریاستی صدر جوئل اورام نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے یہ تسلیم کیا کہ بعض علاقوں میں مسائل ہیں اور ریاستی حکومت اس کی ذمہ دار ہے کیوں کہ سرکار کی جانب سے خوراک کی رسد کے لیے کئی فلاحی سکیمں ہیں لیکن لوگ ان سے واقف نہیں ہیں۔

مقامی نامہ نگار سندیپ ساہو کا کہناہے کہ میڈیا میں بھوک سے اموات کی خبریں آنے کے بعد بھی حکومت پر اس کا کوئی اثر نہيں ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کالاہنڈی میں بھوک سے اموات کوئی نئی بات نہيں ہے لیکن اس حقیقت کو قبول نہيں کیا جاتا ہے۔

اس حقیقت کو قبول نہيں کیا جاتا
 میڈیا میں بھوک سے اموات کی خبریں آنے کے بعد بھی حکومت پر اس کا کوئی اثر نہيں ہو رہا ہے، کالاہنڈی میں بھوک سے اموات کوئی نئی بات نہيں ہے لیکن اس حقیقت کو قبول نہيں کیا جاتا ہے۔
 
سندیپ ساہو

سندیپ ساہو کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں گزشتہ آٹھ مہینوں سے خوراک کی رسد نہں پہنچ پا رہی ہے اور یہ قبائلی لوگ بانس کے پتے اور آم کی گٹھلیاں کھانے کو مجبور ہيں جس کی وجہ سے ان میں ہیضہ اور ڈائریا پھیلتا ہے۔

ایک غیر سرکاری تنظیم ایکشن ایڈ کا کہنا ہے کہ عوام کے پاس حقیقت میں کھانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہیں۔

بھوک سے ہونی والی اموات کا سبب بتاتے ہوئے تنظیم کے ایک رکن برتندی جینا نے بتایا کہ ایک تو ان علاقوں میں روایتی کھیتی کا خاتمہ ہوچکا ہے اور دوسری جانب حکومت کی لاپرواہی ہے۔

ان کے مطابق اس سے نمٹنے کے لیے حکومت کو موثر اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے۔ جس میں صاف پانی، تعلیم، بیداری اور خوراک کی رسد کا انتظام لازمی ہے۔