صلاح الدین
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
ہندوستان کے جنوبی شہر حیدرآباد میں پولیس نے دو مشتبہ افراد کے نارکو ٹیسٹ کے (مشینوں کے ذریعے سچ جھوٹ معلوم کرنا) ذریعے دیے گئے بیانات کی بنیاد پر دس افراد کو گرفتار کیا ہے۔
گرفتار افراد کو عدالت میں پیش کیا گیا جنہیں کورٹ نے دو ہفتے کے لیے عدالتی تحویل میں بھیج دیا ہے۔ مشتبہ افراد سید عمران خان اور کلیم عرف رفیق کا بنگلور میں نارکو ٹیسٹ کیا گيا تھا۔
حیدرآباد کے پولیس کمشنر بلوندر سنگھ نے کہا ہے کہ ان گرفتاریوں کا تعلق حالیہ بم دھماکوں سے نہیں ہے۔ ’ گرفتار افراد پہلے سے کئی معاملات میں مطلوب تھے۔‘
انہوں نے کہا کہ دھماکوں کی تفتیش کے سلسلے میں بعض ٹیمیں ریاست کرناٹک، تمل ناڈو اور مہاراشٹر بھیجی گئی ہیں۔
پچیس اگست کی شام کو شہر میں دو بم دھماکوں سے چولیس افراد ہلاک اور پچاس سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ پولیس ایک بنگلہ دیشی شہری رضوان غازی کی تلاش میں ہے، جن کی بہن کو پولیس نے حراست میں لے رکھا ہے۔
تفتیشی ٹیمیں |
شہر کے مسلم قائدین نے پولیس کمشنر بلوندر سنگھ سے ملاقات کر کے انہیں مسلمانوں کی تشویش سے آگاہ کیا تھا، جس کے بعد پولیس نے بعض افراد کو رہا کردیا ہے لیکن اب بھی کئی لوگ لاپتہ ہیں۔
سیاسی تجزیہ کار پروفیسر عبدالرحیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شہر کی کئی مسلم تنظیمیں پولیس کے اس رویے سے پریشان ہیں۔ ان کے بقول یہ ایک خاص طبقے میں ڈر پیدا کرنے کے لیے کیا جارہا ہے۔’ اگر کوئی ثبوت ہے تو انہیں سامنے لایا جائے، اس طرح کی کارروائی سے کوئی فائدہ پہنچنے کے بجائے یہ تاثر ملتا ہے کہ پولیس کے ذریعے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔‘
سول لبرٹیز مانیٹرنگ کمیٹی نے پولیس کے اس رویے کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔ کمیٹی کے صدر عمر لطیف خان نے دعویٰ کیا ہے کہ تقریباً چالیس پچاس مسلم نوجوانوں کو پولیس تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔
جیسے غنڈے اغوا کرتے ہیں |
لطیف خان کا کہنا ہے کہ شہر کے چھ مدرسوں پر چھاپے مارے گئے ہیں جس میں سے تین لڑکیوں کے مدرسے ہیں۔’شہر میں مسلم طبقہ خوف ہراس میں ہے، ڈر کا عالم یہ ہے کہ لڑکے باہر کم نکل رہے ہیں اور ضرورت پڑنے پر خواتین باہر جاتی ہیں۔ ’یہ غیر قانونی حراست ہے اور ہمار مطالبہ ہے کہ ملزمان کو کورٹ میں پیش کیا جائے اور ایسی کارروائیاں بند کی جائیں۔‘
صحافی عمر فاروق نے ایسے کئی لوگوں سے بات چیت کی جن کے بچے لاپتہ ہیں۔ عمر فاروق کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں سے پرانے شہر میں کشیدگي کا ماحول ہے۔