http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 03 September, 2007, 01:17 GMT 06:17 PST

سبیر بھومک
بی بی سی کلکتہ

گائے بھی شناختی کارڈ بنوائیں

بھارت کی بارڈر سکیورٹی فورسز مغربی بنگال کے سرحدی دیہاتوں میں جتنی بھی گائے ہیں ان کی تصاویر اتار رہے ہیں اور ان کو خصوصی شناختی کارڈ جاری کر رہی ہیں۔

بارڈر سکیورٹی فورس کے ترجمان جی کے شرما کے مطابق یہ اقدام بھارت سے بنگلہ دیش گائے کی سمگلنگ کو روکنے کے لیے کیا جارہا ہے۔

جی کے شرما کا کہنا ہے کہ ہر روز ہزاروں کی تعداد میں گائے بنگلہ دیش سمگلنگ کی جاتی ہیں۔

بھارت میں گائے برآمد کرنے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ ملک کی اکثریتی ہندو آبادی اس مقدس سمجھتی ہے اور گائے کا گوشت کھانے کے خلاف ہے۔

ضلع مرشدآباد میں ہزاروں کی تعداد میں دیہاتی اپنے گائے کے ساتھ فوٹو گرافروں کی دکانوں کے باہر ہر روز قطاریں لگائے کھڑے نظر آتے ہیں تاکہ گائے کی تصویر بنا کر شناختی کارڈ حاصل کیا جاسکے۔

کچھ سرحدی دیہاتوں میں بہت سی شناختی کارڈ جاری کر دیئے گئے ہیں۔

کلکتہ میں بارڈ سکیورٹی فورس کے حکام کا کہنا ہے مرشدآباد جہاں گائے کی سمگلنگ سب سے زیادہ تعداد میں ہوتی ہے وہاں اگر اس اقدام سے کوئی فائدہ ہوا تو پھر دوسرا دیہاتوں میں بھی گائے کے شناختی کارڈ جاری کیئے جائیں گے۔

مقامی اندازوں کے مطابق بیس سے تیس ہزار گائے روزآنہ بھارت سے بنگلہ دیش سمگل کی جاتی ہیں، جس میں زیادہ تر مغربی بنگال سے جاتی ہیں۔
ہندو گائے کو مقدس مانتے ہیں

گائے کی برآمد پر پابندی ہے لیکن یہ بڑی تعداد میں بنگلہ دیش اور پاکستان سمگل کی جاتی ہیں۔

گائے سمگلنگ کرنے والے پنجاب اور ہریانہ سے بھی ٹرکوں پر گائے لاد کر مغربی بنگال لاتے ہیں جہاں سے یہ بنگلہ دیش سمگل ہوتی ہیں۔

ان سمگلروں کے گروہوں پہلے انہیں سرحدی دیہاتوں میں رکھتے ہیں جہاں سے انہیں سرحد پار ہانک دیا جاتا ہے۔

مقامی لوگوں کو بھی جو سمگلنگ میں شامل ہوتے ہیں انہیں پورا معاوضہ دیا جاتا ہے۔ شناختی کارڈ جاری کرنے سے سمگلنگ کے لیے لائے جانے والے جانوروں کی آسانی سے شناخت ہو سکے گی۔

ان شناختی کارڈوں پر گائے اور اس کےمالک کی تصویر لگائی گئی ہے اور اس شناختی کارڈ کی مدت دو سال ہے۔ اس میں گائے کا رنگ اور اس کے بارے میں دیگر تفصیل بھی درج کی جا رہی ہے۔