Saturday, 01 September, 2007, 08:34 GMT 13:34 PST
رام دت ترپاٹھی
بی بی سی لکھنؤ
اترپردیش کےضلع الہ آباد میں جمعہ کی رات تشدد کے واقعات سے فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہونے کے بعد پانچ علاقوں میں کرفیونافذ کر دیا گیا۔
اتر پردیش پولیس کے اعلٰی اہلکار برج لعل نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ علاقے میں کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب یہ افواہ پھیلی کہ کریلی علاقے میں ایک مقدس کتاب کے پھٹے ہوئے ورق ملے ہیں۔
اس خبر پر بعض افراد بھڑک گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے بڑی تعداد میں لوگ احتجاجاً سڑکوں پر نکل آئے۔مشتعل ہجوم نے کریلی پولیس تھانے پر پتھراؤ کیا جس کے بعد دونوں جانب سے ہوائی فائرنگ شروع ہوگئی۔
حالانکہ اس واقعہ میں کسی کی بھی ہلاکت کی خبر نہیں ہے لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی طرح کی گنجائش نہیں چھوڑنا چاہتی جس سے امن و قانون پر کوئی اثر پڑے۔
حالات پر قابو پانے کے لیے انتظامیہ نے کریلی، اتر سوئیا، شاہ گنج ، کوتوالی اور خلدہ باد میں کرفیو نافذ کردیا ہے۔
دوسری جانب بعض مقامی افراد نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پچلے دنوں یہ اس طرح کا دوسرا واقعہ ہے جب قرآن کی بے ادبی کی بات سامنے آئی ہے۔
کریلی علاقہ میں مسلمان اکثریت میں ہیں اور یہ علاقہ فرقہ وارانہ فسادات کے لیے کافی حساس ہے۔