فیصل محمد علی
بی بی سی، بھوپال
بھارت کی ریاست چھتیس گڑھ کے دنتے واڑہ ضلع میں بدھ کو ماؤ نواز باغیوں کے ساتھ ایک جھڑپ کے بعد لاپتہ ہو جانے والے بارہ پولیس اہلکاروں کی لاشیں مل گئی ہیں۔
واقعہ کی تفصیل بتاتے ہوئے ریاست کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس وشو رنجن نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ماؤ باغیوں نے دنتے واڑہ کے ایک علاقے میں سڑک کی مرمت پر گئے پولیس جوانوں پر حملہ کیا، جس کے بعد چالیس پولیس اہلکاروں میں سے بارہ واپس نہيں آئے۔
ان کا کہنا ہے تھا ’اس وقت ماؤ باغیوں کے حملے میں مارے جانے والے جوانوں کی کوئی واضح تعداد بتانا مشکل ہے ، لاپتہ پولیس اہلکاروں کی تلاش جاری ہے اور تلاش مکمل ہونے کے بعد ہی صحیح تعداد کا تعین کیا جا سکے گا۔‘
اس دوران مقامی ذرائع ابلاغ میں لاپتہ بارہ پولیس اہلکاروں کےمارے جانے کی خبریں شائع ہو ۔ییں اور اب ان کی ہلاکت کی تصدیق ہو گئی ہے۔
بارہ پولیس اہلکاروں میں چار سپیشل پولیس فورس کے اہلکار، چار حوالدار اور ایک انسپکٹر شامل ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بدھ کی صبح پولیس کی ایک ٹیم مقامی باشندوں کے ساتھ جگر گنڈا کی ایک سڑک کی مرمت کے لیے گئی تھی جسے ماؤ باغیوں نے تباہ کردیا تھا۔ واپسی کے وقت یہ ٹیم دو حصوں میں تقسیم ہوگی۔ ایک ٹیم واپس آگئی جبکہ دوسری ٹیم پر باغیوں نےحملہ کر دیا۔
چھتیس گڑھ کا دنتے واڑہ ضلع ملک میں سب سے زيادہ ماؤباغیوں کے زیر اثر علاقہ شمار کیا جاتا ہے۔ جولائی میں پولیس کی ایک گشتی ٹیم پر ماؤ باغیوں کے حملے میں پچاس سے زیادہ پولیس مارے گئے تھے۔