Tuesday, 28 August, 2007, 19:36 GMT 00:36 PST
ایم ایس احمد
پٹنہ
بہار کے مشرقی شہر بھاگلپور میں زیبائشی چین کی چوری کے ایک ملزم کو پولیس والوں کی جانب سے موٹر بائیک سے باندھ کر گھسیٹنے کے معاملے میں دو پولیس والوں کو معطل کر دیا گیا ہے۔
بھاگلپور کے ناتھ نگر علاقے کے ایک مندر میں پوجا کے دوران کچھ لوگوں نے اورنگ زیب عرف سلیم نامی نوجوان کو ایک خاتون کی چین کھینچنے کےالزام میں پکڑ کر پہلے تو خوب زدوکوب کیا، پھر موقع پر پہنچے دو پولیس والے ایل بی سنگھ اور رام چندر رائے نے اس ملزم کو موٹر بائیک سے باندھ کر گھسیٹ ڈالا۔
پولیس والے جب اسے خود نہیں کھینچ سکے تو مقامی لوگوں نے موٹر سائیکل کو دھکے دے کر آگے بڑھایا۔اس دوران سلیم اپنی جان بخشنے کی منتیں کرتا رہا لیکن اسے کافی دیر گھسیٹنے کے بعد ہی چھوڑا گیا۔
ریاست کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس آشیش رنجن سنہا نے اس معاملے میں بھاگلپور کے ایس پی کو کارروائی کی ہدایت کی اور اس پر ایس پی نے ناتھ نگر کے انسپکٹر جاوید محمود سے پورے معاملے کی رپورٹ مانگی تھی جنہوں نے دونوں پولیس والوں کو قصوروار پاتے ہوئے انہیں معطل کرنے کی سفارش کی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مذکورہ ملزم کو پیٹنے اور گھسیٹے جانے کا پورا واقعہ ایک مقامی چینل کے کیمرامین نے ریکارڈ کیا اور پولیس والوں کو اس سے کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔سلیم فی الحال ایک سرکاری ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ ناتھ نگر پولیس کا کہنا ہے کہ سلیم کا ماضی ’مجرمانہ‘ رہا ہے اور اس پرکئی معاملے درج ہیں۔
ریاست کی مختلف جماعتوں نے اس واقعہ کی سخت مذمت کی ہے۔ سی پی آئی ایم ایل کے اہلکار دھیریندر جھا نے کہا کہ’ ریاست کی پولیس دیگر مقامات پر بھی چھوٹے موٹے مجرموں کو پکڑ کر اسی طرح کی حرکتیں کر رہی ہے‘۔
انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ ریاست میں آئے دن مجرموں کو سرعام پیٹ پیٹ کر مار دینے کے واقعات ہو رہے ہیں لیکن حکومت اس کا نوٹس نہیں لے رہی۔