Tuesday, 28 August, 2007, 13:59 GMT 18:59 PST
ایف اے خان
پٹنہ
بہار میں ایک تحقیقاتی کمیشن نے اٹھارہ سال قبل بھاگل پور میں ہونے والے فساد کے متاثرین کو1984 کے سکھ مخالف فسادات کے لیے متاثرین کے مساوی معاوضوں کی سفارش کی ہے۔
بہار کے وزیراعلی نتیش کمار نے گزشتہ برس بھاگلپور فسادات میں ہلاک ہونے والوں کے پسماندگان کو معاوضے دینے اور ان کی امداد کے دیگر پہلوؤں کا از سرنو جائزہ لینے کے لیے ایک کمیشن قائم کیا تھا۔ جسٹس این این سنگھ کی سربراہی میں قائم کیے جانے والے اس کمیشن نے اپنی پہلی رپورٹ منگل کو وزیراعلی کو پیش کر دی۔
وزیر اعلی نتیش کمار نے بتایا کہ وزیراعظم منموہن سنگھ کو رپورٹ کے ساتھ ایک مکتوب بھیجا جا رہا ہے جس میں سفارش کی گئی ہے کہ سکھ مخالف فسادات کے ورثا کو جو ساڑھے تین لاکھ روپے کا معاوضہ اور دیگر سہولتیں دی گئی ہیں وہ بھاگلپور کے متاثرین کو بھی دی جائیں۔
معاوضہ کا یہی پیکج گجرات فساد کے متاثرین کو بھی دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پیکج میں پنشن دینےکی ذمہ داری ریاستی حکومت کو دی گئی ہے اور حکومت بہار اس ذمہ داری کو نبھانے کے لیے تیار ہے۔ پنشن کی رقم ڈھائی ہزار روپے مہینہ ہے۔ ریاستی حکومت نے امورِ داخلہ کے پرنسپل سکریٹری افضل امان اللہ کو بھی مراسلہ بھیجا ہے تاکہ وہ اس سلسلہ میں وزارات داخلہ کے حکام سے تبادلہ خیال کریں۔
تمام افسران کے خلاف کاروائی |
وزیراعلی نے کہا ہے کہ کمیشن کو یہ ذمہ داری بھی دی گئی ہے کہ ملزموں کے خلاف جو کیس ثبوت کے باوجود بند کردیے گئے تھے ان کا از سرِ نو جائزہ لے کر سماعت شروع کرائی جائے۔
انہوں نے سابق وزیراعلی اور موجودہ وزیر ریلوے لالو پرساد یادو کا نام لیے بغیر کہا کہ جو پندرہ سالوں تک حکومت کرتے رہے انہوں نے اس معاملہ میں محض مگرمچھ (گھڑیالی) کے آنسو بہائے انصاف نہیں دلایا۔
داخلہ سکریٹری امان اللہ نے کہا کہ پہلی رپورٹ میں جن افسران پر انگلی اٹھائی گئی تھی ان کی فائل بھی جلد ہی کھولی جائیگی اور ان تمام افسران کے خلاف کاروائی شروع کی جائے گي خواہ وہ ریٹائر ہی کیوں نہ ہو گئے ہوں۔