Sunday, 26 August, 2007, 12:56 GMT 17:56 PST
صلاح الدین
بی بی سی اردوڈاٹ کام، حیدرآباد
حیدرآباد میں سنیچر کو ہونے والے بم دھماکے کے دو زخمی راما کرشنا اور رحیم یشودھا ہسپتال میں انتہائی نگہداشت کے شعبے میں پہلو بہ پہلو زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
دونوں کے سر میں چوٹ لگی ہے اور دونوں کا آپریشن بھی ایک ہی جیسا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق دونوں ہی کی حالت تشویشناک ہے اور آئند اڑتالیس گھنٹوں تک کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔
یشودھا ہسپتال کی ایمرجنسی کے باہر اگر شریش راؤ اپنے والد کی صحت کے لیے بے تاب ہیں تو عبداللہ باقی کی اہلیہ محمدی بیگم اپنے شوہر کی صحت کے لیے کل رات سے دعا کر رہی ہیں۔
دھماکہ کرنے والوں کا مقصد کیا تھا ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن اس میں ہر طبقے کے لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ جہاں اس دھماکے میں دو ہندو خاندان ختم ہوئے ہیں وہیں ایک مسلمان خاندان کا بھی نام و نشان مٹ گیا ہے۔
عام تاثر یہ ہے کہ ان دھماکون کا مقصد لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کرنا ہو سکتا ہے لیکن اگر مقصد یہی تھا تو یہ حاصل نہیں ہو سکا کیونکہ لوگ بے خوف اور پُرامن ہیں۔ فرقہ وارنہ ہم آہنگی بھی برقرار ہے اور عام تاثر یہی ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ہے۔