http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 26 August, 2007, 14:16 GMT 19:16 PST

صلاح الدین
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، حیدرآباد دکن

حیدرآباد، ایک شہر جو خاموش ہے۔۔۔

اتوار چھبیس اگست کا دن جنوبی ہندوستان کے بیشتر علاقوں میں مبارک ہے۔ کیرالا میں اگر اونم دھوم دھام سے شروع ہوگیا ہے تو آندھر پر دیش میں اس روز تقرییا تیس ہزار شادیاں ہونی طے تھیں لیکن سنیچر کو سلسلہ وار دو دھماکوں نے حیدرآباد کی فضا ہی بدل دی۔

بم دھماکوں کے بعد شہر میں ہائی الرٹ کردیا گیا اور زخمیوں کے درد اور ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کی چیخوں نے شہر میں مایوسی کا سماں باندھ دیا۔

انڈیا میں حالیہ دھماکے اور زمینی حقائق
رام اور رحیم کی موت سے لڑائی
حیدرآباد دھماکوں کی تحقیقات

شہر کے بیشتر علاقوں میں سکیورٹی سخت ہے۔ جگہ جگہ بریک لگائے گئے ہیں اور عام آدمیوں کی بھی تلاشی لی جارہی ہے۔ شاید حیدرآباد کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔

مئی میں مکہ مسجد میں بم دھماکوں کے بعد شہر کے زندہ دل کردار کو ٹھیس پہنچی تھی لیکن ابھی اس درد کو عوام بھلا بھی نہیں پائے تھے کہ ایک اور افسوسناک واقعے نے شہر کو ’الرٹ موڈ‘ میں ڈال دیا۔
کوٹی میں گوکل چاٹ کی دکان کے آس پاس اب بھی خون سوکھا نہیں ہے

گزشتہ شام شہر حیدرآباد میں دو بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد چالیس ہوگئی ہے۔ اس میں پانچ خواتین اور سات بچے شامل ہیں۔ پچاس سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے آٹھ کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔

عثمانیہ ہسپتال میں اگر لاشوں کی شناخت کے لیے لوگوں کا تانتا لگا ہوا تھا تو یشودھا، کیئر اور گاندھی ہسپتال میں زخمیوں کے گھر والے گہرے صدمے کی حالات میں اپنے پیاروں کی جان کے لیے دعا مانگ رہے ہیں۔ ہر طرف مایوسی اور غم کا سماں ہے۔ جہاں زخمیوں کے درد کی کراہٹ کے درمیان موت کی خاموشی محسوس کی جا سکتی ہے۔

ہسپتال کے باہر شری لکشنا بیٹھی زار وقطار رو رہی ہیں:’میری اٹھارہ سالہ بیٹی اپنے بھائی کے لیے راکھی خریدنے گئی تھی، رات فون سے پتہ چلا کہ وہ ہسپتال میں ہے اور جب ہم ہسپتال آئے تو وہ ختم ہو چکی تھی۔ اب میرے پاس کیا بچا ہے۔ میری تو دنیا لٹ گئی اور کوئی مدد کرنے والا نہیں ہے‘۔ شری لکشنا جیسی کئی کہانیاں یہاں لکھی جا رہی ہیں۔

چوبیس سالہ گوپال کی لاش عثمانیہ ہسپتال میں تھی لیکن ان کے اہل خانہ دیگر ہسپتالوں میں ان کی تلاش میں بھٹکتے رہے اور آخر کار انہیں گوپال کی لاش ملی ان کے بھائی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جذباتی ہوگئے۔’میرے ساتھ اتنا بڑا حادثہ ہوا ہے لیکن میری کسی نے کوئی مدد ہی نہیں کی، میں نے اخبار میں اپنے بھائی کی تصویر دیکھی تو پتہ چلا کہ وہ ہسپتال میں ہے اور اتنا تلاش کرنے کے بعد اب میں پہچان سکا ہوں کہ یہ میرے بھائی کی لاش ہے‘۔
فورنسک کے ماہرین بم کے اجزاء تلاش کر رہے تھے

ایسا نہیں ہے کہ ہلاک ہونے والے سب افراد کو ان کے رشتہ داروں نے پہچان لیا ہو۔ ان میں بعض ایسے بھی ہیں جو اس دنیا سے تو گئے لیکن ان کی لاش کو پہچاننے والا بھی کوئی نہیں۔ کئی لاشیں اب بھی عثمانیہ ہسپتال میں پڑی ہیں لیکن ان کے چہرےاور بعض اعضاء نہ ہونے کے سبب ان کی شناخت میں مشکل پیش آرہی ہے۔ ہسپتال کا منظر بڑا ہی خوفناک ہے جہاں انتظامیہ کے رویے پر بیشتر لوگوں نے شکایت کی۔

کوٹی میں گوکل چاٹ کی دکان کے آس پاس اب بھی خون سوکھا نہیں ہے اور انسانی اعضاء کےٹکڑے ادھر ادھر بکھرے پڑے ہیں۔ جوتے چپل اور عینک کے ساتھ کاپی کتابیں سب خون آلود ہیں۔ فورنسک کے ماہرین اس میں سے بم کے اجزاء تلاش کر رہے تھے۔

دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ کہ سر اور جسم کے کئی حصے دکان کے اوپری حصے میں چپکے ہوئے تھے۔ اس سب کو دیکھ یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سنیچر کی شام کو اس دکان میں چاٹ کھانے والوں پر کیا گزری ہوگی۔
دھماکا اتنا زوردار تھا کہ کہ سر اور جسم کے کئی حصے دکان کے اوپری حصے میں چپکے ہوئے تھے

پولیس کی ایک بڑی تعداد نے اس روڈ کو محاصرے میں لے رکھا ہے لیکن بجرنگ دل کے مظاہرین کو وہ نہ روک سکے۔ ایسے وقت جب سبھی شہر میں امن امان برقرار رکھنے کی گزارش کر رہے ہیں بجرنگ دل نے گوکل چاٹ کی دکان کے سامنے ایک احتجاجی ریلی نکالی۔

بیشتر مظاہرین نعرہ لگا رہے تھے، ’پاکستان مردہ باد‘، ’پاکستانیوں کو مار بھگاؤ‘، ’بھارت ماتا کی جے‘ اور ’جے شری رام‘۔ اس ریلی میں حصہ لینی والی بیشتر خواتین تھیں۔

لمبنی پارک میں بھی فورنسک کے ماہرین جائے حادثہ کا جائزہ لے رہے تھے۔ اس اوپن تھیٹر میں ہونے والا دھماکہ اتنا شدید تھا کہ بعض عینی شاہدین کے مطابق بعض لوگ دھماکے کے ساتھ فضا میں اڑ کر زمین پرگرے۔ تھیٹر میں بھی خون ابھی سوکھا نہیں ہے۔

عام طورپر شہر میں امن ہے۔ آج شادیوں کا دن ہے لیکن شہرمیں دھماکے کی سبب ہوئی ہلاکتوں کا درد ہر طرف محسوس کیا جاسکتا ہے۔