Sunday, 26 August, 2007, 22:54 GMT 03:54 PST
ایم ایس احمد
پٹنہ
پٹنہ ہائی کورٹ کی جانب سے دفتروں میں ڈریس کوڈ کی پابندی کی ہدایت کے بعد بہار حکومت نے تمام افسران کو نافذالعمل ڈریس کوڈ پر عمل درآمد کے لیے کی یاد دہانی کرائی ہے۔
بہار ایڈمنسٹریٹو سروس ایسوسی ایشن ’باسا’ کے جنرل سیکرٹری بپن کمار سنہا نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ ریاست کے چیف سیکرٹری کی جانب سے یہ ہدایت آئی ہے کہ افسران دفتر میں آدھی یا پوری بازو والی شرٹ اور ہلکے رنگ کی پینٹ پہن کر آئیں۔اسی طرح خاتون افسران کے لیے ساڑھی یا شلوار قمیص کو پسندیدہ بتایا گیا ہے۔
بپن سنہا کے مطابق ہلکے رنگ کی دھوتی کرتا یا کرتا پاجامہ پہننے کی بھی اجازت ہے جبکہ افسران کے لیے جاری ڈریس کوڈ میں جشنِ یوم آزادی اور دیگر حاصل مواقع پر پرنس کورٹ اور شیروانی زیب تن کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
حکومت کو افسران کے لیے یہ ہدایت جاری کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ اس ماہ کے اوائل میں ایک مقدمے کے سلسلے میں پٹنہ ہائی کورٹ جانے والے دو افسران کی پوشاک عدالت کی نظر میں قابل قبول نہیں تھی۔
اطلاعات کے مطابق مونگیر کے ایڈیشنل کلکٹر رام نریش چودھری اور ایگزیکٹو مجسٹریٹ نریندر کمار سنگھ ایک مقدمے کے سلسلے میں ہائی کورٹ پہنچے تو جسٹس ایس کے کٹیار کو ان کی پوشاک قابل اعتراض محسوس ہوئی۔
جسٹس کٹیار نے نہ صرف ان دونوں افسران پر پانچ پانچ ہزار روپے جرمانہ عائد کیا بلکہ اس کے علاوہ چیف سیکرٹری کو ہدایت دی کہ حکومت سنہ انیس سو چون میں جاری کردہ ڈریس کوڈ سے افسران کو مطلع کرے۔
’باسا‘ کے جنرل سیکرٹری بپن سنہا کہتے ہیں کہ’ڈریس کوڈ کوئی نئی بات نہیں، یہ ضرور ہے کہ افسروں نے اس پر عمل کرنا بند کر دیا تھا‘۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے کوئی نئی پابندی عائد کی گئی تو ’باسا‘ اس کی مخالفت کرےگا۔