Friday, 24 August, 2007, 04:41 GMT 09:41 PST
شہاب فضل
اتر پردیش
اترپردیش کی حکومت نے سبزیوں اور تازہ کھانے پینے کی دیگر اشیاء کے بڑے سٹور بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ ریاست ميں حال ہی ميں ملک کے ایک بڑے صنعتی گروپ ریلائنس فریش کے نام سے سبزیوں کے بڑے بڑے سٹور کھولے تھے۔
وزیر اعلیٰ مایا وتی نے حزب اختلاف کے شدید دباؤ کے نتیجے میں ٹھیکے پر کاشتکاری کرنے کی پالسی کو بھی واپس لے لیا ہے۔
گزشتہ تین اگست کو مایاوتی حکومت نے ایک زرعی پالیسی کی منظوری دی تھی، جس کے مطابق کارپوریٹ اداروں کو ٹھیکے پر کسانوں کی زمین لے کر اس پر کاشتکاری کرنے کا اختیار دیا گیا تھا۔
وزیر اعلیٰ مایاوتی نے ریاستی کابینہ کی میٹنگ کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ ریاست کے 60 فیصد کسان زرعی پالیسی کے مخالفت کر رہے ہیں، اس لیے اس پالیسی کو کالعدم کیا جا رہا ہے۔
ریلائنس گروپ کے ذریعے سبزیوں اور خوردنی اشیاء کے سٹور کھولے جانے کے سلسلے میں مایاوتی نے کہا کہ چھوٹے تاجر اور سبزی فروش اس کی مخالفت کر رہے ہیں، جس سے نقص امن کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ الہ آباد، وارانسی اور لکھنو میں ’ریلائنس فریش‘ نے جو سٹور کھولے ہیں انہیں بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ریلائنس گروپ نے اتر پردیش میں سبزیوں اور خوردنی اشیاء فروخت کرنے کے لیے مختلف شہروں میں 20 سٹور کھولنے کا اعلان کیا تھا اور گزشتہ 22 اگست کو تین ایسے سٹوروں کا افتتاح بھی ہوا تھا۔
لیکن تاجروں کی تنظیموں نے وہاں احتجاج کرتے ہوئے توڑ پھوڑ کی تھی۔ اس احتجاج کی تائید اپوزیشن سماج وادی پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی بھی کر رہی ہے۔