Tuesday, 21 August, 2007, 13:52 GMT 18:52 PST
خدیجہ عارف
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلّی
اردو ادب کی نامور ناول نگار قرۃالعین حیدر کی تدفین جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قبرستان میں کردی گئی ہے۔
انہیں جامعہ ملیہ اسلامیہ سے منسلک رہنے کے سبب جامعہ کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ تدفین کے وقت ان کےقریبی رشتے دار اور یونیورسٹی کے بعض پروفیسر موجود تھے۔ ایسی شخصیت کے آخری رسومات کی ادائیگی کے وقت کسی بڑی شخصیت کی کمی واضح محسوس ہو رہی تھی۔
اس بارے میں جب میں نے ادیب گلزار دہلوی سے پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ ’ان کے چاہنے والے پوری دنیا میں ہیں۔ شاید وقت کی کمی کے سبب وہ جسمانی طور پر یہاں نہیں ہیں لیکن ذہنی طور پر وہ سب یہیں پر ہیں‘۔
گلزار دہلوی نے مزید کہا کہ وہ صرف ناول نگار نہیں تھیں بلکہ بڑی صحافی بھی تھیں۔ انہوں نے اردو ادب کواتنا کچھ دیا ہے کہ وہ ہمیشہ زندہ رہیں گی۔
عینی آپا نہیں ملیں گی |
وہیں جامعہ ملیہ کے اردو شعبہ کے پروفیسر خالد محمد کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ اردو ادب کے ایک دور کا خاتمہ ہو گيا ہے۔ انہوں نے کہانی کہنے کا جو انداز اردو ادب کو دیا ہے اسے کبھی بھی بھلایا نہیں جا سکتا ہے۔
قرۃ العین حیدر سادہ زندگی جینے پر یقین رکھتی تھیں اور ان کے رشتہ داروں نے ان کی خواہش پر عمل کرتے ہوئے میڈیا سے دور رہنے کو ترجیح دی۔ کافی زور دینے پر ان کے بھانجے نے اپنے غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’میں ممبئی میں رہتا ہوں اور مجھے اس بات پر یقین ہی نہیں آ رہا کہ اب جب میں دوبارہ دلی آؤں گا تو عینی آپا مجھے نہیں ملیں گی۔ وہ بیمار تو بہت دنوں سے تھیں اور ہمیں معلوم تھا کہ وہ کسی بھی وقت اس دنیا سے جا سکتی ہیں لیکن اب بھی یقین نہیں آ رہا ہے۔ ہاں ایک بات ضرور ہے کہ ایک ادیبہ کے طور پر ان کی کمی ہمیشہ محسوس ہو گی‘۔