http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 21 August, 2007, 11:49 GMT 16:49 PST

سندیپ ساہو
اڑیسہ

بریت کے باوجود قید پر معاوضہ

ہندوستان کی ریاست اڑیسہ کی عدالت نے قتل کے الزام سے بری ہونے کے بعد بھی ایک شخص کو آٹھ برس تک قید میں رکھنے پر ریاستی حکومت کو آٹھ لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

پرتاب نائک نامی اس شخص کا تعلق ریاست کے بودھ ضلع سے ہے۔ پرتاب نائک کی رہائی کا حکم آنے کے باوجود انہیں قید میں اس لیے رہنا پڑا کیونکہ ذیلی عدالت کے اہلکار جیل حکام کو ان کی رہائی کی اطلاع نہیں کر سکے۔

پرتاب نائک نے اڑیسہ ہائی کورٹ میں اس سلسلے میں ایک درخواست داخل کی تھی۔ ان کے وکیل نے درخواست میں کہا کہ عدالت سے رہائی ملنے کے بعد بھی انہیں قید میں رکھا گیا اور رہا نہیں کیا گيا جبکہ ’آزادی‘ ان کا بنیادی حق ہے۔

پیر کو اڑیسہ ہائی کورٹ نے معاوضہ سے متعلق ذیلی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے ریاستی حکومت کو معاوضہ دینے کا حکم دیا ہے۔ ریاستی حکومت نے معاوضہ کی رقم کم کرانے کے لیے ہائی کورٹ میں اپیل داخل کی تھی۔

عدالت نے ریاستی حکومت کو حکم دیا ہے کہ پرتاب نائک کو معاوضہ سترہ ستمبر سے قبل ادا کیا جائے۔
فائل فوٹو
اطلاعات کے مطابق ہندوستان کی جیلوں میں اس وقت گنجائش سے زائد قیدی ہیں

پرتاب نائک تیرہ برس کے تھے جب زمین کے تنازعہ میں ایک شخص کو قتل کرنے کے معاملے میں انہیں پانچ دیگر افراد کے ہمراہ انیس سو نواسی میں گرفتار کیا گیا۔

پرتاب نائک نے اپنی دلیل میں مسلسل یہی کہا کہ وہ اس مقدمہ کے اکیلے عینی شاہد ہیں کیونکہ جب یہ واقعہ پیش آیا تو وہ اس وقت سکول سے واپس آ رہے تھے لیکن ضلعی عدالت نے انہیں گرفتاری کے سال تاعمر قید کی سزا دے دی جبکہ دیگر ملزمان ضمانت پر رہا ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

نائک کو اس لیے ضمانت نہیں مل سکی کیونکہ ان کے والدین غریب اور ناخواندہ تھے اور وہ قانونی پیچیدگیوں کو نہیں سمجھ سکے۔ اس لیے وہ جیل میں ہی قید رہے۔

مسٹر نائک انیس سو چورانوے میں اڑیسہ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد بھی قید رہے جس میں عدالت نے پانچ دیگر ملزمان کے ساتھ انہیں ثبوتوں میں کمی کے سبب رہا کرنے کا حکم دیا تھا مگر عدالتی اہلکار نے اس فیصلے سے مقامی جیل حکام کو آگاہ نہیں کیا جبکہ ہائی کورٹ یہ سمجھتی رہی کہ سب ہی ملزمان ضمانت پر رہا ہیں۔