Monday, 06 August, 2007, 08:55 GMT 13:55 PST
ریحانہ بستی والا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
غمزدہ بالی وڈ
ڈائری لکھنے بیٹھے تو سنجو بابا (سنجے دت) کا چہرہ سامنے آگیا۔ عدالت میں وہ مجرموں کے لیے مختص بینچ پر بیٹھے تھے جو صرف مجھ سے دو گز کی دوری پر تھی۔ ان کے اور میرے درمیان ایک پولیس کانسٹبل بیٹھا تھا۔ میں نے ان کی جانب دیکھا تو ہلکا سا ہاتھ ہلا کر مسکرائے۔ اشارہ کیا کہ میرے لیے دعا کرو۔ عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران جب بھی صحافیوں سے ملتے تو صرف یہی کہتے :’میرے لیے دعا کیجئے‘۔ ہم کیا ہندوستان اور پاکستان سمیت دنیا بھر کے کروڑوں پرستار ان کے لیے دعا کر رہے تھے۔
عدالت کی کارروائی شروع ہوئی اور عدالت نے ان کے ایک ساتھی روسی ملا کو اچھے برتاؤ کے لیے بنائے گئے قانون پروبیشن آف اوفینڈرز ایکٹ کے تحت جب انہیں رہا کرنے کاحکم صادر کیا تو سنجو کے چہرے پر ہلکی سی امید کی کرن نظر آئی۔ میں نے انہیں اشارے سے کہا اب آپ بھی چھوٹ جاؤ گے۔ سنجو مطمئن نظر آنے لگے۔ انہوں نے اوپر ہاتھ کر کے اشارہ کیا۔ جیسے خدا کا شکر ادا کر رہے ہوں۔
منہ میں گٹکا تھا جسے وہ دھیرے دھیرے چبا رہے تھے۔ شرٹ کے بٹن کھلے تھے اور پنکھے کی ہوا بھی تیز تھی لیکن چہرے پر پسینہ صاف جھلک رہا تھا۔ اس کے بعد جج نے سنجو کے جرم گنوانے شروع کیے۔ جج کے اس بیان سے سنجو کے چہرے کے تاثرات بدلنے لگے۔ وہ بار بار پہلو بدلنے لگے۔ جج نام لیتے تو وہ اٹھ کھڑے ہوتے۔ جج نے ان کی اس پریشانی کو محسوس کر لیا اور انہیں بیٹھنے کے لیے کہا۔ سب صحافیوں کے ساتھ میں بھی جج کے فیصلے کو نوٹ کرنے لگی۔ جج نے سزا سنائی چھ سال قید بامشقت اور پچیس ہزار روپیہ جرمانہ۔
سنجو حکم سن کر سکتے میں آگئے۔ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ کٹہرے میں کھڑے ہو کر انہوں نے ہاتھ جوڑ کر جج سے کہا:’میں اس سزا کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں تھا مجھے برائے مہربانی کچھ دن کی مہلت دے دیں۔ مجھے اپنی بیٹی سے بات کرنی ہے وہ امریکہ میں ہے۔ جج صاحب چودہ برس پہلے مجھ سے صرف ایک غلطی ہوئی تھی۔۔۔۔میرے پاس پولیس کانسٹبل نہ آئیں انہیں کہیے کہ وہ مجھ سے دور رہیں مجھے گھیرے میں نہ لیں۔۔۔۔میرے ساتھی یوسف نل والا کو میرے ساتھ ایک ہی سیل میں رکھیے۔۔۔۔۔سنجو بابا بولتے رہے۔ ان کے ہاتھ کپکپا رہے تھے، آواز تھرا رہی تھی اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی بھیڑ میں کھڑی میں بھی انہیں چپ چاپ سنتی رہی۔
سلو نے پارٹی منسوخ کردی
![]() | |
| سلو بھیا سنجو بابا کو اپنا بڑا بھائی مانتے ہیں |
گودریج کمپنی کی مالک پرمیشور گودریج نے فلم ’گاندھی مائی فادر‘ کے لیے دی گئی پارٹی منسوخ کر دی اور روی چوپڑہ نے فلم ’نیا دور‘ کے لیے رکھا پریمیئر کینسل کر دیا۔ اداکار سنیل شیٹی سمیت سنجو کے دوستوں نے فیصلے کے خلاف ایک مہم چلانے کا ارادہ کیا تھا۔ کنگ خان (شاہ رخ خان) نے انٹرنیٹ پر سنجو کے لیے ایک سائیٹ بنانے کا ارادہ کیا تھا لیکن سنجو کی ایم پی بہن پریہ دت نے سب کو یہ سب کرنے سے منع کیا ہے کیونکہ ان کی ہمدردی کے لیے اٹھایا گیا یہ قدم خود سنجو کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گا۔
پریشان سنجو
ائر کنڈیشن کمرے میں مخملی بستر پر سونے والے سنجو کو جیل کی سخت زمین پر نیند نہیں آرہی ہے۔ کمرے میں پنکھا نہیں ہے، اس لیے گرمی اور مچھر پریشان کر رہے ہیں۔ ان کے خون کا دباؤ کبھی کم تو کبھی زیادہ ہو رہا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ دراصل وہ اس قید کو ذہنی طور پر قبول نہیں کر پا رہے ہیں۔ بالی وڈ اور ان کے پرستار ان کی ضمانت کے لیے دعا کر رہے ہیں۔
سنا ہے سنجو بابا جیل میں قیدیوں کے لیے کھانا پکانے میں مدد کریں گے اور ساتھ ہی جیل میں رہ کر گاندھی کے اصولوں پر مکمل معلومات حاصل کرنے کے لیے کتابیں پڑھیں گے۔
’چھوٹے‘ عامر
![]() | |
| سلمان کے گھر پارٹی میں کرن راؤ عامر کو چھوٹے کے نام سے پکار رہی تھیں |
اداکار کی گائے اور بھینسیں
شہر میں تازہ دودھ نہیں ملتا اور گوالے اس میں پانی ملا کر بیچتے ہیں، اس سے پریشان ہو کر ہریانہ کے جٹ اداکار موہت اہلاوت نے کئی گائیں اور بھینسیں پال لی ہیں۔ آں۔۔آں۔۔اپنے فلیٹ میں نہیں بلکہ اس کے لیے انہوں نے ایک طبیلہ بھی خریدا ہے۔ دودھ کے شوقین موہت نے شیرنی کا بھی دودھ پیا ہے۔ اب کوئی ہمیں یہ نہ کہے کہ انہوں نے شیرنی پالنے کا ارادہ بھی کر لیا ہے۔
ملکہ لیلی بنیں گی
![]() | |
| فلم ’قربانی‘ کے ری میک کے لیے ملکہ کو سائن کیا گیا ہے |
چی چی کا منتر
چی چی۔۔ وہی اپنے گووندہ جنہیں بالی وڈ چی چی کے نام سے جانتا ہے۔ سلمان کے ساتھ فلم کرنے کے بعد ان کے سر پر بھی فٹ رہنے کا جنون سمایا ہے اور اس کے لیے انہوں نے جم جانے جیسی مشکل سے بچنے کے لیے ایک نیا منتر اپنایا ہے۔ یعنی وہ اب کسی بھی عمارت میں لفٹ سے نہیں بلکہ سیڑھیوں سے اوپر چڑھیں گے اور فلم کی شوٹنگ پر کار میں جانے کے بجائے سلو کی طرح سائیکل چلا کر سٹوڈیو پہنچیں گے۔
روزا کی روزی
![]() | |
| روزا کو ایک فیشن شو میں میزبان بننے کی پیشکش ہوئی تھی |
کے کے کی چھلانگ
کے کے مینن نے فلم ’میٹرو‘ کی کامیابی کے بعد اب اپنا معاوضہ پندرہ سے پچھتر لاکھ روپے کر دیا ہے۔ اچھی چھلانگ ہے لیکن کے کے کہیں آپ کو ایسا تو نہیں لگتا کہ میٹرو آپ کی وجہ سے کامیاب ہوئی۔
ایشا کا زوردار تھپڑ
![]() | |
| ایشا نے مار دھاڑ کے مناظر فلمانے شروع کیے ہیں |
بے بی اگر ہاتھ اتنا ہی مضبوط ہے تو ہمیں تو لگتا ہے کہ اب آپ کے سامنے کام کرنے والا ہر ہیرو پہلے فلمساز سے یہی سوال کرے گا ’اس فلم میں ایشا کے تھپڑ مارنے کا تو سین نہیں ہے۔اگر ہے تو پلیز اسے نکال دیجیے‘۔