Sunday, 05 August, 2007, 10:33 GMT 15:33 PST
ایم ایس احمد
پٹنہ
ہندوستان کی ریاست بہار میں تین ہفتوں کی سیلاب کے بعد حکام اور غیر سرکاری اداروں نے وسیع پیمانے پر امدادی کارروائی شروع کر دی ہے۔
سنیچر کی سہ پہر سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر دربھنگہ ضلع میں فوج کے ہیلی کاپٹر کی مدد سے خوراک کے پیکیٹس گرائے گئے۔ یہ عمل اتوار کو بھی جاری ہے۔ ریاستی حکام کے مطابق تقریباً بتیس ٹن اشیائے خوردنی ہیلی کاپٹر کے ذریعہ متاثرہ علاقوں میں گرائی جائیں گی۔
سیلاب زدہ شہروں کو جانے والی سڑک پر چھوٹی گاڑیوں کا آنا جانا شروع ہوا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ دو ایک دنوں میں بڑی گاڑیاں بھی ان سڑکوں پر چلنے لگیں گی۔اسی طرح ریل ٹریفک بھی معمول پر آ رہی ہے۔
سیلاب زدہ علاقوں میں ندیوں کے پانی کی سطح تیزی سے کم ہو رہی ہے لیکن پشتوں کو محفوظ رکھنا مقامی انتظامیہ کے لیۓ اب ایک بڑا چیلنج ہے۔
آفات سے نمٹنے والے محکمے کے پرنسپل سکریٹری منوج کمار شریواستو کے مطابق انیس اضلاع سیلاب سے متاثر ہیں اور حکومت نے قریب چھ سو امدای کیمپ لگائے ہیں جہاں قریب پچاس ہزار افراد نے پناہ لے رکھی ہے۔
ان اعداد و شمار سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کافی بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو خود کسی طرح پولیتھن شیٹ ٹانگ کر دن گزارنے کو مجبور ہیں۔
سیلاب زدہ خاندانوں کو پہلے تیز بارش کا سامنا تھا اب انہیں چلچلاتی دھوپ سے پریشانی ہے۔ موسوم کی اس تبدیلی سے بخار اور قے و دست جیسے امراض پھیلنے کے خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
![]() | |
| مویشیوں کے نقصان کے سلسلے میں معاضے کا اعلان اب تک نہیں ہوا ہے |
سیلاب سے انسانی زندگی کے ساتھ ساتھ مویشیوں اور فصلوں کا بھی کافی نقصان ہوا ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ قریب نو لاکھ ہیکٹر زمین کی فصلیں برباد ہو گئی ہیں۔اس وجہ سے قریب نوے کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔
وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے زرعی نقصان کے لیے معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے لیکن مویشیوں کے نقصان کے سلسلے میں ایسا کوئی اعلان اب تک نہیں ہوا ہے۔
ریاستی حکومت کے ساتھ ساتھ ریڈ کراس اور دیگر غیر سرکاری و مذہبی تنظیموں کی جانب سے بھی امدادی کارروائی کی جا رہی ہے۔