Wednesday, 01 August, 2007, 11:37 GMT 16:37 PST
جھار کھنڈ میں بدھ کو ریاست گیر ہڑتال کے دوران لاتیہار ضلع میں ماؤ باغیوں نے ریاست گير بند کے دوران دو ریلوے سٹیشنوں پر دھماکے کیے جبکہ گڈھوا ضلع میں دو بسوں کو حملہ کا نشانہ بنایا۔ دونوں واقعات میں کئی افراد زخمی ہوئے ہیں۔
تقریباً چالیس مسلح ماؤ باغیوں نے لاتیہار کے ڈیمو اور بنگی ریلوے سٹیشنوں پر دھماکے کیے جس کی وجہ سے دونوں سٹشین پوری طرح منہدم ہوگئے۔حملے سے پہلے ماؤ باغیوں نے ڈیمو کے سٹشین ماسٹر کو یرغمال بنا لیا تھا لیکن دھماکے کے بعد انہیں رہا کردیا۔
گڈھوا ضلع میں بس پر کيے گیے حملے میں دونوں بسوں کے ڈرائیوروں کو گولی لگی ہے اور ایک بس کے گڈھے میں گر جانے کی وجہ سے کئی مسافر زخمی ہوگئے ہیں۔گڈھوا ضلع کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس محمد نہال کے مطابق صبح تقریباً سات بجےماؤ باغیوں نے بس پر حملہ کیا۔
ماؤ باغیوں کا کہنا ہے وہ یہ حملہ اس لیے کر رہے ہيں کیونکہ ان کے ایک رہنما مدن جی کو پولیس نے اس وقت حراست میں لے لیا جب وہ علاج کے لیے پٹنہ جارہے تھے۔تاہم پولیس نے اس خبر کی تصدیق نہيں کی ہے۔
ماؤ باغی نے اپنے رہنما کی گرفتاری کے خلاف بدھ اور جمعرات کو ہڑتال کی اپیل کی جس سے ریاست میں معمول کی زندگی بری طرح متاثر ہورہی ہے۔
ہڑتال کے سبب ٹرینوں کی آمد و رفت رک گئی ہے، تقریبا بارہ ٹرینوں کی سروسز کو معطل کردیا گيا ہے۔ بس سروسز بھی متاثر ہورہی ہيں۔
مبصرین کا خيال ہے کہ اس دھماکے کے ذریعہ ماؤ باغی اپنے اثر و رسوخ پورے علاقے میں دکھانا چاہتاہے۔
ہڑتال کے اعلان کے پیش نظر ریاست میں حفاظتی انتظامات سخت کردیے گئے تھے۔ حکام کا کہنا ہےکہ ریاست کے بائیس میں سے اٹھارہ اضلاع میں ماؤ باغیوں کا اثر ہے لیکن مبصرین کا خیال ہے کہ ماؤ باغیوں کا اثر پوری ریاست میں ہے۔