Wednesday, 01 August, 2007, 10:12 GMT 15:12 PST
تمل ناڈو کے شہر کوئمبٹور کی ایک ذیلی عدالت نے بدھ کو کوئمبٹور میں انیس سو اٹھانوے کے سیریل بم دھماکوں کے مقدمے میں ’الامہ‘ تنظیم کے بانی سید احمد باشا کو بم حاصل کرنے اور دھماکوں کی سازش کا قصوروار قرار دیا ہے۔
عدالت نے اس مقدمے کے ایک اہم ملزم پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے عبدالناصر مدنی کو تمام الزامات سے بری کردیا ہے جو گزشتہ نو برس سے جیل میں تھے۔
عدالت نے 158 ملزموں کو قصوروار قرار دیا۔ سزاؤں کا تعین چھ اگست کو متوقع ہے۔ عدالت نے آٹھ ملزمین کو رہا کردیا ہے۔
فروری انیس سو اٹھانوے میں کوئمبٹور میں مختلف مقامات پر اٹھارہ بم دھماکے ہوئے تھے ان میں وہ مقام بھی شامل تھا جہاں اس وقت کے وزیر داخلہ ایل کے اڈوانی ایک انتخابی ریلی کو خطاب کرنے والے تھے۔ لیکن وہاں پہنچنے میں تاخیر کے سبب وہ بچ گئے تھے۔ ان دھماکوں میں مجموعی طور پر اٹھاون افراد ہلاک اور دو سو سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ممنوعہ تنظیم الامہ سے تعلق رکھنے والے کئی خود کش حملہ آور اڈوانی کے قتل کے مشن پر تھے۔
ان دھماکوں کے سلسلے میں تمل ناڈو کی پولیس نے کرناٹک، آندھرپردیش اور مغربی بنگال سے ایک سو اڑسٹھ مسلمانوں کو گرفتار کیا تھا۔ ان میں سے ایک کی موت ہوچکی ہے اور ایک سرکاری گواہ بن گئے۔
ملزموں کے ایک وکیل کا کہنا ہےکہ بیشتر ملزمان آٹھ یا نو برس سے جیل میں ہيں۔ ان میں اکثریت ایسی ہے جن پر جو الزامات لگائے گئے ہيں اگر وہ ثابت بھی ہوجائیں تو بھی وہ ممکنہ طور پر ملنے والی سزاؤں سے زیادہ مدت پہلے ہی جیل میں کاٹ چکے ہوں گے۔ جن کے خلاف الزام ثابت نہيں ہو سکے گا انہيں کسی جرم کے بغیر سزا مل چکی ہوگی۔