Sunday, 29 July, 2007, 11:43 GMT 16:43 PST
انیس سو نواسی کے بھاگلپور فساد کی از سر نو سماعت کے لیے تشکیل شدہ این این سنگھ کمیشن میں پرانے معاملات پر سماعت کا عمل شروع ہوگیا ہے۔
اس سماعت کا مقصد فساد کے متاثرین کے مکانات ، کھیت اور جائداد پر جبراً قبضہ کےمعاملات پر غور کرنا ہے ۔نئے کمیشن کو بہار کی موجودہ نتیش کمار حکومت نے پچھلے برس تشکیل دیا تھا۔
انیس سو نواسی میں تقریباً دو ماہ تک جاری فساد میں ایک ہزار سے زیادہ مسلمانوں کا قتل کیا گيا تھا۔اور بعد میں فساد کے متاثرین کے مکانات، دکانیں، کھیت اور دوسری جائدادوں پر دیگر لوگوں نے جبری قبضہ کر لیا تھا یا انہیں خوفزدہ کرکے اونے پونے دام دے کر خرید لیا تھا۔
ایک سماجی تنظیم مسلم یونائیٹڈ فرنٹ نے اس معاملہ میں پیش رفت کرتے ہوئے فساد میں بری طرح متاثر چمپانگر، مدنی نگر، نور پور، شاہ کنڈ، سبور، بانکا، عمر پور، رسول پور، ہرنانبررگ، مکرمہ ڈیہہ اور اسلام نگر وغیرہ قصبوں اور گاؤں کے تقریبا ایک سو ایسے لوگوں کو کمیشن کے سامنے پیش کرایا جن کی جائیدادوں اور کھیت پر جبری قبضہ جما لیا گیا۔
یہ بھی دیکھا جائے گا کہ کیا واقعی گزشتہ لالو پرساد یادو کی حکومت نے ان افسران کے خلاف کوئی کاروائی کی تھی یا نہیں۔
محکمہ داخلہ اب یہ تحقیق کررہا ہے کہ کمیشن نے انیس سو پنچانوے میں جن افسران کے خلاف کارروائی کی سفارش کی تھی ان پر کارراوئی ہوئی یا نہیں یا فی الحال وہ افسران کہاں ہیں۔
کمیشن نے اپنی رپورٹ میں اہم عہدیداروں کے بارے میں کہا تھا کہ وہ عوام کے محافظ کے بجائے قاتل بن گئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق بعض افسران نے حملہ آوروں کو ورغلایا ہے، یہاں تک کے جب فساد کی گونج پٹنہ تک پہنچی تو ریاست کےچیف سیکرٹری اس پر قابو پانے کے لیے اقدامات کرنے کے بجائے دہلی پہنچ گئے۔
داخلہ سیکرٹری افضل امان اللہ نے بتایا کہ کمیشن نے جن افسران کو ملزم قرار دیا تھا ان میں نو آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران شامل ہیں۔ ان کے علاوہ گزیٹیڈ اور نان گزٹیڈ افسران کی ایک بڑي تعداد ہے جن میں زيادہ تر پولیس کے ملازم ہیں۔
وزیر اعلٰی نتیش کمار نے منموہن سنگھ کو مکتوب لکھ کر اور ملاقات کر کہ یہ درخواست کی ہے کہ بھاگل پور فساد زدگان کے لیے اتنا ہی معاوضہ ملے جو انیس سو چوراسی کے دہلی کے سکھ مخالف فساد کے متاثرین کو دیا گيا ہے۔