Saturday, 28 July, 2007, 12:12 GMT 17:12 PST
ایم ایس احمد
پٹنہ
دو ہفتوں کی مسلسل بارش اور دریاؤں میں طغیانی کے باعث ریاست بہار کے درجن بھر اضلاع میں معمولات زندگی درہم برہم ہوگئے ہیں۔
ریاستی حکومت نے پہلی بار سیلاب سے بگڑتی حالت کے بارے میں اعداد و شمار جاری کیے ہیں جن کے مطابق تقریباً گیارہ لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ ان اعداد و شمار کے مطابق سیلاب سے پندرہ افراد ہلاک ہوئے ہیں تاہم اطلاعات کے مطابق مرنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔
سیلاب زدہ علاقوں میں لاکھوں افراد پانی میں گھرے ہوئے ہیں اور بے شمار افراد بے سر و سامانی کی حالت میں نقل مکانی کر کے پشتوں، سڑکوں اور ریلوے لائن جیسی اونچی اور قدرے محفوظ جگہوں پر پناہ لینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
سیلاب زدہ علاقوں میں ریل گاڑیوں اور ٹریفک کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ بجلی اور ٹیلیفون سروسز کی حالت بھی خراب ہے۔ان علاقوں میں سکولوں میں اس ماہ کے آخر تک تعطیلات کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ دربھنگہ میں پانی جمع ہوجانے کی وجہ سے وہاں واقع میڈیکل کالج کو پندرہ اگست تک بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
ریاست کے وزیراعلیٰ نتیش کمار اس وقت ماریشس کے دورے پر ہیں۔ ان کی غیر حاضری میں نائب وزیراعلیٰ سشیل کمار مودی نے اعلیٰ سطح کی ایک میٹنگ کے بعد سیلاب زدہ علاقوں میں تمام سرکاری اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
![]() | |
| سیلاب زدہ علاقوں میں لاکھوں افراد پانی میں گھرے ہوئے ہیں |
ریاستی حکومت کی فہرست میں ان اضلاع کو سیلاب زدہ علاقوں میں شامل نہیں کیا گیا ہے جہاں قدرے کم تباہی ہوئی ہے۔ ان اضلاع میں سمستی پور اور نالندہ جیسے اضلاع شامل ہیں۔
منوج کمار شریواستو کا کہنا تھا کہ سیلاب سے تقریباً ستر ہزار ہیکٹر زمین پر کھڑی فصلیں برباد ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق ریاستی حکومت یونیسیف، ریڈ کراس اور دیگر تنظیموں کی تعاون سے سیلاب زدگان کی مدد کے لیے امدادی اشیاء تقسیم کر رہی ہے۔ شریواستو کے مطابق تیرا مقامات پر امدادی کیمپ قائم کیے گئے ہیں اور ساڑھے چار سو کشتیاں چلائی جا رہی ہیں۔
حکومت کی جانب سے کیے جانے والے دعوے اپنی جگہ ہیں تاہم متاثرہ علاقوں سے موصول ہونی والی اطلاعات کے پیش نظر یہ اقدامات ناکافی معلوم ہوتے ہیں۔
سیلاب زدگان کے حقوق کے لیے ’سنگھرش یاترا‘ نامی تحریک چلانے والے ششی شیکھر کہتے ہیں کہ سیلاب سے نمٹنے میں حکومت بری طرح ناکام ہے۔ ان کے مطابق متاثرہ افراد کے لیے امدادی کاموں کے سرکاری بیانات دراصل ایک
’دھوکہ‘ ہیں۔
جو کام کرپہلے کرنا تھا نہیں کیا |
ششی شیکھر نے کہا کہ جو لوگ پشتوں پر پناہ لیے ہوئے ہیں انہیں کوئی مدد نہیں مل سکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیلاب سے نمٹنے کا جو کام حکومت کو سیلاب آنے سے قبل کرنا چاہیے تھا، اس جانب کوئی توجہ نہیں دی گئی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سیلاب سے پندرہ افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ششی شیکھر کے بقول:’اب تک کم از کم سو افراد ہلاک ہو گئے ہیں‘۔