Wednesday, 25 July, 2007, 12:44 GMT 17:44 PST
ایم ایس احمد
پٹنہ
بہار میں دس دنوں سے جاری بارش کی وجہ سے سیلاب کی حالت سنگین ہوتی جا رہی ہے اور اب ہلاکتوں کی اطلاعات آنے لگی ہیں۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے ایسے وقت میں ماریشس کے دورے پر روانگی کو حزب اختلاف نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
منگل کو بھاگلپور ضلع کے سبور بلاک کے لیلکھ ریلوے اسٹیشن کے پاس دریائے گنگا کی شاخ گھوگھا ندی میں کشتی کے ڈوب جانے سے قریب تیس لوگ ڈوب گئے تھے۔
ڈوبنے والے آٹھ لوگوں کو زندہ بچانے میں کامیابی ہوئی ہے۔ اب تک دو لاشیں ملی ہيں لیکن چوبیس گھنٹے کے بعد بھی بقیہ بیس لوگوں کا پتہ نہیں چل پایا ہے۔
بھاگل پور کے ضلع میجسٹریٹ وپن کمار کے مطابق ڈوبنے والے لوگوں کی تلاش کے لیے پینتیس غوطہ خوروں کی خدمات لی گئی ہیں۔
ریاست کے دوسرے اضلاع سے بھی لوگوں کے ڈوبنے کے سبب ہلاکتوں کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔
ہلاکتوں کی زیادہ تر خبریں ان علاقوں سے آ رہی ہیں جہاں ندیوں پر پل نہیں ہیں اور لوگ مجبورا ً کشتی سے سفر کرتے ہیں۔ بیشتر مقامات پرگنجائش سے زیادہ لوگوں کے سوار ہونے کے سبب کشتیاں ڈوب جاتی ہیں۔
سیلاب کی وجہ سے پٹنہ کے قریب بہنے والی پن پن ندی کا پشتہ ٹوٹ گیا ہے جس سے کئی گاؤں غرقاب ہو گئے ہیں۔
اس کے علاوہ چمپارن، سمستی پور، سیتامڑھی اور سوپول ضلع سے بھی پشتوں کے کمزرو پڑنے یا ٹوٹنے کی اطلاع ملی ہے۔
سیلاب کی وجہ سے متاثرہ علاقوں میں خوراک کی قلت ہو گئی ہے اور ان اشیاء خورد و نوش کی قیمتوں میں کافی اضافہ ہو گیا ہے۔
ریاست کے ایک وزیر مسٹر اجیت سنگھ کے مطابق متاثرہ لوگوں کے درمیان پلاسٹک کی شیٹیں وغیرہ تقسیم کی جا رہی ہیں۔
دریس اثناء وزیر اعلیٰ نتیش کمار ماریشس کے ثقافتی دورے کے لیے دلی روانہ ہو گئے ہیں۔ حزب اختلاف آر جے ڈی نے بدھ کی صبح سیلاب زدگان کی خبر نہ لینے کا الزام عائد کرتے ہوئے نتیش کمار کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔
دوسری جانب ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ سشیل کمار مودی نے کہا ہے کہ نتیش کمار ماریشس سیر سپاٹے کے لیے نہیں بہار کے ثقافتی تعلق کو مضبوط کرنے جا رہے ہیں۔