http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 23 July, 2007, 11:49 GMT 16:49 PST

ایم ایس احمد
پٹنہ

بہار میں بارش سے لاکھوں افراد متاثر

بہار میں ایک ہفتے کی مسلسل بارش سے عام زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ریاست کے دریاؤں میں پانی کی سطح کافی بلند ہوگئی ہے اور ریاست کے شمالی اور مشرقی حصوں میں لاکھوں لوگ سیلاب کی زد میں آگئے ہیں۔

مسلسل بارش اور سیلاب کی وجہ سے ٹرینوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے اور کئی قومی شاہراؤں پر ٹریفک بند کردی گئی ہے۔

اتوار کو زمین دھنسنے کی وجہ سے دربھنگہ اور سکٹا سٹیشن کے درمیان چلنے والی ایک ٹرین پٹری سے اتر گئی۔ سمستی پور ریل ڈویژن کے منیجر سری ہری نے بتایا کہ مسلسل بارش کی وجہ سے کئی جگہ ٹریک پر بھی پانی جمع ہے اس لیے ہر جگہ ’ہائی الرٹ‘ کی ہدایت دی گئی ہے۔

اسی طرح بھاگلپور ضلع کے ایک سیکشن پر ٹرینوں کی آمد و رفت روک دی گئی ہے اور بعض ٹرینوں کا روٹ بدل دیا گیا ہے۔

پٹنہ موسم مرکز کے سربراہ ڈاکٹر ٹی این جھا نے بتایا کہ آئندہ دو تین دن تک بارش رکنے کا امکان نہیں ہے۔

نیپال کی بعض دریاؤں کے علاوہ بہار میں گنگا، باگمتی اور گنڈک ندی میں سیلاب کی وجہ سے بھاگلپور، سمستی پور، سپول، مظفرپور، چمپارن، سیتامڑھی اور دربھنگہ کے دیہی علاقوں سے لوگ محفوظ علاقوں کی طرف منتقل ہوگئے ہیں۔ ان علاقوں میں فصلیں بھی زیرِ آب آگئی ہیں۔

ریاستی حکومت فی الوقت ہر علاقے میں پشتوں کو بچانے میں لگی ہوئی ہے حالانکہ کئی جگہ سے ان کے ٹوٹنے کی خبر بھی موصول ہوئی ہے۔ ریاست کے آبی وسائل کے وزیر راماشرے پرساد سنگھ کے مطابق تمام علاقوں کے چیف انجینئرز کو حالات پر نظر رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

مظفرپور اور سیتامڑھی کو ملانے والی قومی شاہراہ نمبر 77 کے علاوہ قومی شاہراہ نمبر 28 پر ندی کا پانی بہہ رہا ہے۔ اس وجہ سے ان دونوں شاہراؤں پر گاڑیوں کی آمد و رفت پوری طرح بند ہے۔

دوسری جانب دارالحکومت پٹنہ میں نکاسیِ آب نہ ہونے کی وجہ سے ہر طرف پانی جمع ہے اور کئی محلوں میں لوگوں کےگھروں میں پانی داخل ہو گیا ہے۔ بارش اور پانی جمع ہونے کی وجہ سے ریاست کے زیادہ تر سکولوں میں غیر اعلانیہ تعطیل کا ماحول ہے۔