Wednesday, 18 July, 2007, 08:32 GMT 13:32 PST
ریحانہ بستی والا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
انیس سو ترانوے ممبئی بم دھماکوں کی خصوصی عدالت نے آج تین مجرموں کو موت کی سزا سنائی ہے۔
ٹاڈا عدالت کے خصوصی جج پرمود دتاتریہ کوڈے نے پرویز ناصر شیخ, مشتاق ترانی اور عبدالغنی ترک کو پھانسی کی سزا دیتے ہوئے کہا کہ ان کے جرائم بہت سنگین تھے اور انہوں نے بم دھماکہ کی سازش سے لے کر اسلحہ کی لینڈنگ، آر ڈی ایک بھری گاڑیاں کھڑی کرنے، بم دھماکہ کرنے اور ملک میں دہشت پھیلانے جیسے سنگین جرائم کیے ہيں۔
عدالت میں ناصر شیخ پر جرم ثابت ہوا تھا کہ انہوں نے بم دھماکے کی سازش میں حصہ لیا تھا اور اسلحہ کو اتارنے اور اسے شہر میں تقسیم کرنے کے علاوہ گاڑیوں میں آر ڈی ایکس رکھنے کا کام بھی کیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے آر ڈی ایکس سے بھرا سکوٹر ممبئی کے کاتھا بازار علاقہ میں کھڑا کیا جس سے دھماکہ ہوا اور دھماکے سے چار افراد ہلاک اور اکیس زخمی ہوئے تھے جبکہ 73 لاکھ کی عوامی املاک تباہ ہوئی تھی. ناصر نے ہوٹل سی راک میں بھی آر ڈی ایکس سے بھرا سوٹ کیس رکھا تھا جس کے پھٹنے پر ہوٹل کا ایک حصہ منہدم ہو گیا تھا۔
ایک مجرم کو تین مرتبہ سزائے موت |
عدالت نے مجرم ناصر کو بم دھماکہ کی سازش، ملک میں دہشت اور نفرت پھیلانے اور لوگوں کو قتل کرنے کے جرم میں تین مرتبہ موت کی سزا اور چار لاکھ روپے جرمانہ عائد کیاہے۔
عدالت نے بم دھماکہ کے دوسرے مجرم مشتاق ترانی کو موت کی سزا اور تین لاکھ ستاسی ہزار پانچ سو روپے کے جرمانہ کی سزا دی ہے. مجرم مشتاق پر بم دھماکہ کی سازش کے ساتھ ممبئی کے ہوٹل سینتور میں آر ڈی ایکس سے بھرے سوٹ کیس رکھنے کا جرم ثابت ہوا تھا۔ مشتاق نے میمن سٹریٹ میں بھی آر ڈی ایکس سے لدا سکوٹر کھڑا کیا تھا جس کے پھٹنے سے تین افراد زخمی ہوئے تھے اور ہوٹل کی دو کروڑ ایک لاکھ روپے کی املاک تباہ ہوئی تھی۔
تیسرے مجرم عبدالغنی ترک کو بھی عدالت نے ناصر کی طرح تین معاملات میں موت کی سزا دی ہے۔ ترک پر بم دھماکہ کی سازش کے ساتھ ممبئی کے سینچری بازار میں بم رکھنے کا جرم ثابت ہوا تھا۔ ترک نے ممبئی کے پاسپورٹ آفس کے پاس واقع سینچری بازار میں کمانڈر جیپ میں آر ڈی ایکس لاد کر کھڑا کیا تھا پھٹنے سے 88 افراد ہلاک ہوگئے تھے اور 159 زخمی ہوئے تھے۔ بارہ مارچ کے ان سلسلہ وار بم دھماکوں میں سب سے زیادہ اموات یہیں ہوئی تھیں۔
انیس مجرموں کو سزا سنانا باقی |
عدالت نے بدھ کو پہلی مرتبہ اس کیس میں موت کی سزا سنائی ہے۔ اس سے قبل عدالت نے چودہ افراد کو عمر قید کی سزا دی تھی۔ اب صرف انیس مجرموں کو سزا سنانا باقی ہے جن میں فلم سٹار سنجے دت سمیت اہم مفرور ملزم ٹائیگر میمن کے خاندان کے چار افراد شامل ہیں۔