Tuesday, 17 July, 2007, 11:37 GMT 16:37 PST
ہندوستان کے زیر انتظام ریاست جموں و کشمیر میں فوج کا کہناہے کہ اس نے ’لائن آف کنٹرول‘ کے پاس اڑی سیکٹر میں شدت پسندوں کی دراندازی کی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔
فوج کے ترجمان کرنل اے کے ماتھر نے بتایا کہ لائن آف کنٹرول پر عسکریت پسندوں اور فوج کی درمیان جھڑپ میں چار شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔
ہندوستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں لائن آف کنٹرول پر دراندازی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
منگل کو مبینہ دراندازی کا یہ واقعہ ہندوستان کے وزیراعظم منموہن سنگھ کے جموں کے دورے کے دو روز بعد پیش آیا ہے جس میں منموہن سنگھ نے کہا تھا:’اب وقت آگیا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان واقع ’لائن آف کنٹرول‘ کو ’لائن آف پیس‘ میں بدل دینا چاہیے‘۔
تاہم ریاست کی علیحدگی پسند جماعتوں نے وزیراعظم کے اس بیان کو محض ایک ’بیان بازی‘ سے تعبیر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے اس کے لیےعملی طور پر کچھ بھی نہیں کیا جارہا ہے۔
پاکستان بھی ماضی میں کہہ چکا ہے کہ ’لائن آف کنٹرول‘ کو ’لائن آف پیس‘ میں بدل دینا چاہیے تاہم بعض پیچیدہ مسائل کے سبب اس سمت میں کچھ زیادہ پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔
ہندوستان اور پاکستان آپس کے رشتوں کو بہتر بنانے کے لیے گزشتہ تین سال سے مذاکرات کر رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں حالات بہتر ہوئے ہیں۔ لیکن ماہرین کے مطابق کشمیر جیسے بنیادی مسئلے پر کچھ زیادہ پیش رفت نہیں ہوپائی ہے۔