Sunday, 15 July, 2007, 09:34 GMT 14:34 PST
برطانیہ میں ناکام بم حملوں کی کوششوں میں مبینہ طور پر منسلک ہندوستانی ڈاکٹر محمد حنیف کی اہلیہ نے ہندوستان کے وزیرِاعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ اور وزیر دفاع اے کے انتھونی سے مدد اپیل کی ہے۔
محترمہ فردوس نے وزیراعظم سے کہا ہے کہ ان کے شوہر ڈاکٹر محمد حنیف کے ساتھ آسٹریلوی پولیس زيادتی کر سکتی ہے۔ بقول فردوس ان کے شوہر’لاپرواہی کے سبب ملزم قرار دیے گئے ہیں‘۔
فردوس نے نامہ نگاروں سے کہا ’میں اب تک خاموش تھی کیوں کہ میرا خیال تھا کہ بغیر کسی وجہ کے ان کے شوہر کے خلاف کوئی الزام عائد نہیں کیا جائے گا لیکن مجھے نہیں اندازہ تھا کہ آسٹریلوی پولیس ایسا قدم اٹھائے گي۔‘
فردوس کا کہنا تھا’میں وزیراعظم اور وزیر دفاع سے مدد کی اپیل کرتی ہوں کیونکہ سبھی جانتے ہيں کہ وہ(محمد حنیف) معصوم ہیں۔‘
گزشتہ ہفتے کو آسٹریلیا کی پولیس نے محمد حنیف پر باقاعدہ الزامات عائد کر دیے ہیں۔ان پر ایک دہشت گرد تنظیم کی معاونت کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ محمد حنیف کو دو جولائی کو برسبین کے ہوائی اڈے پر اس وقت روک لیا گیا تھا جب وہ ہندوستان جانے والے تھے۔
اگر ان پر لگائے گئے الزام عدالت میں ثابت ہوجاتے ہیں تو انہیں پندرہ سے پچیس سال کی قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
آسٹریلوی پولیس کے مطابق محمدحنیف پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے چچیرے بھائیوں سبیل اور کفیل کو موبائل فون کی سِم فراہم کی تھی۔
محمد حنیف ان آٹھ افراد میں ایک ہیں جنہیں برطانیہ میں مبینہ حملوں کے سلسلے میں حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ تمام افراد طب کے پیشے سے وابستہ ہیں اور محمد حنیف کے سوا باقیوں کو برطانیہ سے حراست میں لیا گیا تھا۔