Wednesday, 11 July, 2007, 08:44 GMT 13:44 PST
ریحانہ بستی والا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
پراگ کی یہ حالت کسی اور نے نہیں چند دہشت گردوں کے بزدلانہ رویہ کی وجہ سے ہوئی۔ وہ بھی گزشتہ سال گیارہ جولائی کی اسی ٹرین کے فرسٹ کلاس ڈبے میں تھے جس میں بم دھماکہ ہوا۔ کوئی انہیں ہسپتال لایا۔ پھر اس کے بعد سے وہ کبھی گھر نہیں لوٹ پائے۔
پراگ کی ماں اپنے بیٹے سے روز باتیں کرتی ہیں، انہیں جلد صحتیاب ہو کر گھر چلنے کے لیے کہتی ہیں لیکن جب کوئی جواب نہیں ملتا تو وہ اپنے آنسوؤں کو روک نہیں پاتیں۔
پراگ کی بیوی نے اس حادثہ کے بعد ایک بیٹی کو جنم دیا۔ انہوں نے خود بارہویں جماعت کا امتحان پاس کیا لیکن یہ سب باتیں پراگ کے لیے اب کوئی معنی نہیں رکھتی ہیں۔
پراگ کے ماموں سریش سالوکھے کہتے ہیں: ’ہندوجا ہسپتال میرے بھانجے کے ایک آپریشن کے لیے تین لاکھ پچھتر ہزار روپے مانگ رہا ہے۔ اتنی رقم میرے پاس نہیں ہے‘۔
محمکۂ ریلوے کا کہنا ہے کہ انہوں نے زخمیوں کے لیے پچاس ہزار روپے مختص کیے تھے جو انہیں دیے جا چکے ہیں۔
![]() | |
| ہرماہ ریلوے سے آنے والی تنخواہ سے گزارہ ہو جاتا ہے: اشفاق کی بیوی |
ان کی بیوی روبینہ کہتی ہیں: ’وہ گھر میں خاموش بیٹھے رہتے ہیں۔ ریلوے سے ہر ماہ تنخواہ آجاتی ہے، اس سے گزارہ ہو جاتا ہے‘۔
اکیس سالہ امیت سنگھ ممبئی کے جسلوک ہسپتال کے بستر پر پراگ کی ہی طرح بے بس پڑے ہوئے ہیں۔ ان کے والد دنیش سنگھ اپنے بیٹے کے کانوں میں کہتے ہیں:’بیٹا اب اٹھ جاؤ مجھے پتہ ہے کہ تم بہت بہادر ہو اس لیے ہمت کرو‘۔
امیت کامرس کے طالب علم تھے۔ اسی ٹرین میں سفر کر رہے تھے جس میں دھماکہ ہوا۔ گزشتہ ایک برس سے وہ بھی اسی طرح بستر پر ہیں۔ حادثہ کے بعد ان کا رزلٹ آیا۔ امیت فرسٹ کلاس میں پاس ہوئے۔
امیت کے والد کہتے ہیں:’حکومت سارے اخراجات اٹھا رہی ہے لیکن میں چاہتا ہوں کہ کہ باہر ملک سے ماہر ڈاکٹر میرے بیٹے کا علاج کریں تاکہ وہ اچھا ہوسکے۔ میں اسے باہر نہیں لے جا سکتا کیونکہ اگر ایسا کیا تو حکومت اخراجات بند کر دے گی۔ میری گزارش ہے کہ کوئی ڈاکٹر خود اپنی خدمات پیش کرے تاکہ میرے بیٹے کو اس کی زندگی واپس ملے۔ کوئی میری مدد کرے‘۔
امیت اور پراگ کے علاوہ ایسے سینکڑوں افراد جو اپاہج ہو چکے ہیں۔ ان کے لیے زندگی ایک بوجھ بن چکی ہے اور ان کے خاندان کے لیے زندگی عذاب۔
تئیس سالہ راکیش جھا کے بائیں طرف فالج کا اثر ہو چکا ہے۔ وہ ایک مارکیٹنگ فرم میں ملازم تھے لیکن اس حادثہ کے بعد ان کی فرم نے انہیں ملازمت سے نکال دیا۔اب وہ بے روزگار ہیں لیکن انہیں ماہانہ آٹھ سے دس ہزار روپے اپنے علاج پر خرچ کرنے پڑ رہے ہیں۔
سینٹرل ایکسائز ڈپارٹمنٹ میں ملازم دھیرج راٹھوڑ ٹرین دھماکوں میں اپنا سیدھا ہاتھ اور کان گنوا چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا: ’میرے پاس جمع پونجی نہیں تھی۔ میری دو بیٹیاں ہیں اور اب مجھے ان کی فکر ہے۔ایک سماجی تنظیم نے مجھے مصنوعی ہاتھ بنا کر دیا جسے لگا کر میں کچھ کام کر سکتا ہوں‘۔
راٹھوڑ کی باہمت بیٹیاں پرینکا اور جگنیشا اپنے باپ کا سہارا بننا چاہتی ہیں۔ ایک تنظیم نے ان کی بیٹیوں کی تعلیم کا خرچ اٹھانے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
![]() | |
| بچے میرا مذاق اڑاتے ہیں مگر میں کچھ سن ہی نہیں پاتا: پربھاکر مشرا |
انہوں نے بتایا: ’بچے میرا مذاق بھی اڑاتے ہیں لیکن میں کچھ سن ہی نہیں پاتا تو کیا کروں‘۔
امیت، پراگ اور اشفاق خان کے لیے زندگی ٹھہر گئی ہے۔ کئی افراد جنہوں نے اپنی جانیں گنوا دیں ان کے خاندان کے لیے زندگی ایک بوجھ بن گئی ہے۔
گزشتہ سال گیارہ جولائی کو ممبئی کی ٹرینوں میں ہونے والے بم دھماکوں کو ایک سال ہوا ہے۔ لوگ ٹرین میں سفر تو کرتے ہیں لیکن ان کے دل کے کسی کونے میں خوف اب بھی موجود ہے۔