Wednesday, 11 July, 2007, 13:50 GMT 18:50 PST
رینو اگال
دلی
یکم جولائی 2007 کیپٹن میگھا رازدان کے گھروالوں کے لیے ایک منحوس شام تھی۔ اس روز میگھا نے مبینہ طور پر خودکشی کی تھی۔
لیکن میگھا کے والد ارن کمار اسے خودکشی نہیں مانتے ہيں۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی بیٹی کو فوج کے کسی افسر نے قتل کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’وہ بہت خوش تھی۔اس نے صرف دو برس فوج میں گزارے تھے اور وہ ملک کے لیے کچھ کرنا چاہتی تھی‘۔
ایک برس قبل لفٹیننٹ سشمیتا چکرورتی نے بھی خود کو گولی مار کر ہلاک کر لیا تھا اور ان کے والدین نے فوج پر الزام عائد کیا تھا کہ بعض افسران نے سشمیتا کو ہراساں کیا تھا۔
سال 2002 سے 2006 تک بھارتی فوج میں پانچ ایسے معاملات سامنے آئے ہیں جن میں خواتین افسران کی جانب سے اپنے ہم منصب مردوں پر ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
بھارت کی فوج تقریباً گیارہ لاکھ ارکان پر مشتمل ہے جن میں خواتین افسروں کی تعداد صرف ایک ہزار ہے۔ عام طور پر فوج میں خواتین نرسز اور ڈاکٹر ہوتی ہیں۔
بھارتی فوج میں خواتین کی بھرتی 1992 سے شروع ہوئی تھی۔ فی الوقت باقی دنیا کی طرح ہندوستان کی فوجی خواتین لڑائی کے جنگجویانہ حصے میں شامل نہیں ہوتی ہیں اور جنگ کے دوران بھی ان کا کردار میڈیکل کور تک محدود ہے لیکن اس کے علاوہ بھی وہ فوج کے مختلف کاموں ميں حصہ لیتی ہیں جن میں میں میس، تعلقاتِ عامہ اور دیگر سروسز کے علاوہ ڈرائیونگ تک شامل ہیں۔
بھارتی فوج میں فی الوقت خواتین افسر اپنے مرد ہم منصبوں کی ہی طرح 49 ہفتوں کی سخت تربیت سے گزرتی ہیں اور جسمانی، جذباتی اور ذہنی طور پر تیار ہو کر فوج میں ہر قسم کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تربیت حاصل کرتی ہیں۔
مردوں کی طبقاتی و نفسیاتی دشواری |
فوج میں شامل بعض خواتین اب یہ بھی مطالبہ کر رہی ہیں کہ انہیں ریٹائر ہونے تک فوج میں کام کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ پنشن بھی حاصل کر سکیں۔ اس کے علاوہ ان کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ انہیں جنگجویانہ مراحل میں بھی شامل کیا جائے۔
فوج کے سابق چیف جنرل وی پی ملک کا کہنا ہے کہ ’ہميں ملک کے سماجی حالات کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے۔ ہم امریکہ اور اسرائیل کی طرح نہیں ہو سکتے جہاں ایک ٹینک ميں چار پانچ مرد کے ساتھ ایک خاتون کام کرتی ہے اور ایک ہی بنکر میں رہتی ہے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم فرنٹ لائن پر خواتین کو اس نوعیت کی حفاظت فراہم نہیں کر سکيں گے اور اگر انہیں دشمنوں نے پکڑ لیا تو آپ سوچ سکتے ہیں کہ وہ کس حد تک جا سکتے ہيں؟
ملک میں جس رفتار سے لوگ خودکشی کر رہے ہیں اسے دیکھتے ہوئے تو فوج میں خودکشی کی شرح کافی کم ہے لیکن جب اس قسم کا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو ان نوجوان خواتین کے ارادوں کو ضرور دھچکا پہنچتا ہے جو فوج کا حصہ بننے کی خواہش رکھتی ہیں اور ساتھ ہی فوج کا یہ دعویٰ بھی ایک سوال بن جاتا ہے کہ فوج ایک ایسی تنظیم ہے جہاں لڑکے اور لڑکیوں کے درمیان تفریق نہیں برتی جاتی۔